اور لوگوں کی اقتداء کی وجہ سے ہوگا کیونکہ عبادت و طاعت میں جس کی پیروی کی جاتی ہے اسے ان پیروی کرنے والوں کاثواب بھی ملتا ہے اوران کے ثواب میں بھی کمی نہیں ہوتی لہٰذا اس خیال سے خوشی حاصل ہونا بالکل درست ہے کیونکہ نفع کے آثار کا ظہور لذت بخشتا ہے اور خوشی کا سبب بنتا ہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔اسی طرح کبھی بندہ اس وجہ سے خوش ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل نے اسے ایسے عمل کی توفیق دی ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کی تعریف کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے اس سے محبت کرتے ہیں کیونکہ بعض گنہگار مسلمان ایسے بھی ہوتے ہیں جو عبادت گزار لوگوں کو دیکھ کرا ن کا مذاق اڑاتے اورانہیں ایذا دیتے ہیں، اس صورت میں اِخلاص کی علامت یہ ہے کہ جس طرح اسے اپنی تعریف پر خوشی حاصل ہوتی ہے اسی طرح دوسروں کی تعریف بھی اس کے لئے باعثِ مسرت ہو۔
قابلِ مذمت خوشی یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے نزدیک اپنے مقام ومرتبہ پر خوش ہو اور یہ خواہش کرے :''وہ اس کی تعریف وتعظیم کریں، اس کی حاجتیں پوری کریں، آمدورفت میں اسے اپنے آگے کریں حالانکہ یہ ایک ناپسندیدہ خیال ہے۔
گذشتہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ عمل چھپانے کا مقصد اخلاص حاصل کرنا اور ریا سے نجات پانا ہے جبکہ عبادت ظاہر کرنے کا فائدہ یہ ہو کہ لوگ اس کی پیروی کریں اوران میں نیکی کی رغبت پیدا ہو مگر اس میں ریاکاری کی آفت ہے۔
اللہ عزوجل نے ان دونوں قسموں کے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :