عزوجل کی قربت کی نیت ہو مگر عمل شروع کرتے وقت ریا عارض آگئی اور بندہ اس عارض کو دفع کرنے کے لئے کوشش کرنے لگا، یا اسی طرح اگر یہ نیت عمل کے دوران عارض ہو تو وہ اپنے نفس کو عمل پورا کرنے تک زبردستی اخلاص پر مائل کرے کیونکہ شیطا ن پہلے تمہیں عمل چھوڑنے کا کہتا ہے جب تم اس کی نافرمانی کرتے ہوا ور عزمِ مصمّم کے ساتھ عمل شروع کر دیتے ہو تو وہ تمہیں ریاکاری کی دعوت دیتا ہے جب تم اس سے منہ پھیرتے ہو اور عمل سے فا رغ ہونے تک اس سے جہاد کرتے ہو تو وہ تمہیں ندامت دلاتا ہے اور کہتاہے کہ تم ریاکار ہو اور جب تک تم آئندہ ایسا عمل چھوڑ نہ دو اللہ عزوجل تمہیں اس عمل سے کوئی نفع نہ دے گا اس طرح وہ تم سے اپنی غرض پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا شیطان سے ہوشیار رہو کیونکہ اس سے بڑا مکار کوئی نہیں ، اور اپنے دل میں اللہ عزوجل سے حیاء کو لازم کر لو کہ جب وہ کسی دینی سبب سے تم میں عمل کا جذبہ پیدا فرمائے تو اسے ہر گز نہ چھوڑو بلکہ اپنے نفس کو اس عمل میں اخلاص پر مائل کرو اوراپنے اور اپنے باپ حضرت سیدنا آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے دشمن شیطان کی چالوں سے دھوکا نہ کھاؤ۔
یا پھر اعمال کا تعلق مخلوق سے ہوتا ہے (نہ کہ عامل کی ذات سے )ان کی آفات اور خطرات زیادہ ہیں اور ان میں سے سب سے بڑا خطرہ خلافت میں ہے، پھر قضا میں، پھر وعظ و نصیحت اور تدریس وافتا ء میں اور پھر مال خرچ کرنے میں ، لہٰذا جسے نہ دنیا اپنی طرف مائل کرسکے نہ اس پر لالچ غالب آسکے اور نہ ہی اللہ عزوجل کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اسے روک سکے اور وہ دنیا اور دنیا والوں سب سے منہ پھیر لے اور پھر جب حرکت کرے تو حق کے لئے اورسکون اختیار کرے تو بھی حق کے لئے، تویہی وہ شخص ہے جو دنیوی اور اخروی ولایت کا مستحق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی شرط مفقود ہو اس کے لئے یہ دونوں ولایتیں سخت نقصان دہ ہیں، لہٰذا اسے چاہے کہ وہ ان سے باز رہے اور دھوکا نہ کھائے، کیونکہ اس کا نفس اسے ان معاملات میں عدل، حقوق پورے کرنے، ریا کے شائبوں اور لالچ سے محفوظ رہنے کا خیال دلاتا ہے حالانکہ نفس بہت بڑا جھوٹا ہے لہٰذا اسے چاہے کہ وہ اس سے بچتا رہے کیونکہ نفس کے نزدیک جاہ و حشمت سے زیادہ لذیذ شئے کوئی نہیں حالانکہ بعض اوقات جاہ و حشمت کی محبت ہی اسے ہلاکت میں ڈال دیتی ہے۔
اسی لئے جب حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے نمازِ فجر سے فراغت کے بعد لوگوں کو نصیحت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو منع فرما دیا، تو اس نے عرض کی: ''کیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے لوگوں کو وعظ کرنے سے روک رہے ہیں؟''تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پھول کر آسمان تک نہ پہنچ جاؤ۔''
لہٰذا انسا ن کو وعظ ونصیحت اور علم کے بارے میں وارد فضائل سے دھوکا نہیں کھانا چاہے کیونکہ ان کے خطرات سب سے زیادہ ہیں، ہم کسی کو یہ اعمال چھوڑنے کا نہیں کہہ رہے کیونکہ ان میں فی نفسہٖ کوئی آفت نہیں بلکہ آفت تووعظ ونصیحت، درس وافتاء