اولاد کے کام آئے گا یہاں تک کہ صدیقین کو بھی اپنی ہی فکر ہو گی ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہو گا، جب صدیقین کا یہ حال ہوگا تودیگر لوگ کس حال میں ہوں گے؟
ہر وہ شخص جو اپنے دل میں بچوں، دیوانوں اور دیگر لوگوں کے اپنے عمل پرآگاہ ہونے سے فرق محسوس کرتا ہو وہ ریا کے شائبے میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ یہ جان لیتا کہ نفع ونقصان دینے والااور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اللہ عزوجل ہی ہے اور دوسرے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تو اس کے نزدیک بچوں اور دیگر لوگوں کا آگاہ ہونا برابر ہوتا اور بچوں یا بڑوں کے مطلع ہونے سے اس کے دل پر کوئی فرق نہ پڑتا۔ ریاء کاہرشائبہ عمل کو فاسد اور اَجر کو ضائع کرنے والا نہیں ہوتا، اپنے اعمال پر خوشی کبھی قابل تعریف ہوتی ہے اور کبھی قابلِ مذمت۔
قابلِ تعریف خوشی جیسے(۱)۔۔۔۔۔۔کسی کو یہ مشاہدہ حاصل ہو کہ اللہ عزوجل نے اس کے اچھے عمل کوظاہر کرنے کے لئے لوگوں کو اس کے عمل پر مطلع کیا ہے اور اس پر کرم فرمایا ہے، حالانکہ وہ اپنی عبادت و معصیت کو دل میں چھپائے ہوئے تھا لیکن اللہ عزوجل نے محض اپنے کرم سے گناہوں پر پردہ ڈال کر اس کی عبادت کو ظاہر فرما دیا اور اس سے بڑااحسان کسی پر کیا ہو گا کہ اللہ عزوجل اپنے بندے کے گناہوں کو چھپا دے اور عبادت کو ظاہرکردے لہٰذا بندہ اللہ عزوجل کی اس پر نظرِ رحمت کی وجہ سے خوش ہو لوگوں کی تعریف اور ان کے دلوں میں اس کے لئے جو مقام و مرتبہ ہے اس کی وجہ سے خوش نہ ہو (تو یہ ریا نہیں) جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :