Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
165 - 857
اولاد کے کام آئے گا یہاں تک کہ صدیقین کو بھی اپنی ہی فکر ہو گی ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہو گا، جب صدیقین کا یہ حال ہوگا تودیگر لوگ کس حال میں ہوں گے؟

    ہر وہ شخص جو اپنے دل میں بچوں، دیوانوں اور دیگر لوگوں کے اپنے عمل پرآگاہ ہونے سے فرق محسوس کرتا ہو وہ ریا کے شائبے میں مبتلا ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ یہ جان لیتا کہ نفع ونقصان دینے والااور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اللہ عزوجل ہی ہے اور دوسرے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے تو اس کے نزدیک بچوں اور دیگر لوگوں کا آگاہ ہونا برابر ہوتا اور بچوں یا بڑوں کے مطلع ہونے سے اس کے دل پر کوئی فرق نہ پڑتا۔ ریاء کاہرشائبہ عمل کو فاسد اور اَجر کو ضائع کرنے والا نہیں ہوتا، اپنے اعمال پر خوشی کبھی قابل تعریف ہوتی ہے اور کبھی قابلِ مذمت۔ 

    قابلِ تعریف خوشی جیسے(۱)۔۔۔۔۔۔کسی کو یہ مشاہدہ حاصل ہو کہ اللہ عزوجل نے اس کے اچھے عمل کوظاہر کرنے کے لئے لوگوں کو اس کے عمل پر مطلع کیا ہے اور اس پر کرم فرمایا ہے، حالانکہ وہ اپنی عبادت و معصیت کو دل میں چھپائے ہوئے تھا لیکن اللہ عزوجل نے محض اپنے کرم سے گناہوں پر پردہ ڈال کر اس کی عبادت کو ظاہر فرما دیا اور اس سے بڑااحسان کسی پر کیا ہو گا کہ اللہ عزوجل اپنے بندے کے گناہوں کو چھپا دے اور عبادت کو ظاہرکردے لہٰذا بندہ اللہ عزوجل کی اس پر نظرِ رحمت کی وجہ سے خوش ہو لوگوں کی تعریف اور ان کے دلوں میں اس کے لئے جو مقام و مرتبہ ہے اس کی وجہ سے خوش نہ ہو (تو یہ ریا نہیں) جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ
تر جمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہے کہ خو شی کریں۔(پ11، یونس:58)

(۲)۔۔۔۔۔۔یا خوشی کا قابلِ تعریف ہونا اس وجہ سے ہے کہ بندہ یہ سو چ کرخوش ہو جاتا ہے کہ اللہ عزوجل نے جب دنیا میں اس کے  گناہوں کو چھپایا اور اس کی نیکیوں کو ظاہر فرمایا تو آخرت میں بھی اس کے ساتھ یہی سلوک فرمائے گا، چنانچہ، 

(65)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل جس بندے کے گناہ کی دنیا میں پردہ پوشی فرماتاہے آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔''
(کنزالعمال،کتاب التوبۃ، قسم الاقوال،باب فی فضلھاوالترغیب فیھا الحدیث:۱۰۲۹۶،ج۴،ص۹۷،بدون''ذنباً'')
(۳)۔۔۔۔۔۔یاپھربندہ یہ خیال کرے کہ میرے نیک اعمال پر مطلع ہونے والوں کو میری اِقتدا میں رغبت ملے گی اور اس طرح مجھے دُ گنا ثواب ملے گا ایک ثواب تواس بات کا ہوگا کہ اس کا مقصود ابتداء میں عمل کو پوشیدہ رکھنا تھا اور دوسرا ثواب اس کے ظاہر ہونے
Flag Counter