Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
164 - 857
کی ریا میں وہ کسی ایسے سبب کو تلاش کرتا ہے جو لوگوں کے آگاہ ہونے کا با عث بن سکے، خواہ وہ سبب تعریض ہو یا پست آواز کرنا ہو یا ہونٹوں کو خشک رکھنا یا طویل تہجد گزاری پر دلالت کرنے والی انگڑائیوں اور جمائیوں کے غلبے کا اظہار ہو۔ 

    اس سے بھی بڑھ کر خفی ریایہ ہے کہ نہ تو لوگوں کے آگاہ ہونے کی خواہش ہو اور نہ ہی عبادت کے ظاہر ہونے پر خوشی ہو، البتہ اس بات پر خوشی ہو کہ ملاقات کے وقت لوگ سلام کرنے میں پہل کریں اوراُسے خندہ پیشانی سے ملیں، نیز اس کی تعریف کریں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں جلدی کریں، خریدوفروخت میں اس کی رعایت کریں اور جب وہ ان کے پاس آئے تو وہ اس کے لئے جگہ چھوڑ دیں۔ جب کوئی شخص ان معا ملات میں ذرہ بھر کوتاہی کرے تو یہ بات اسے اُس عبادت کے عظیم ہونے کی وجہ سے ناگوار گزرے جو وہ پوشیدہ طور پر کر رہا تھا۔ گویااس کا نفس اس عبادت کے مقابلہ میں اپنا احترام چاہتا ہے یہاں تک کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ اس نے یہ عبادات نہ کی ہوتیں تو وہ اس احترام کی خواہش بھی نہ رکھتا۔ 

نوٹ:جب بھی مخلوق سے متعلق چیزوں میں اطاعت کا پایا جانا اس کے نہ پائے جانے کی طرح نہ ہوجائے توبندہ نہ تو اللہ عزوجل کے علم پرقناعت کرسکتا ہے اور نہ ہی چیونٹی کی چال سے زیادہ خفیف ریا کے شائبہ سے خالی ہو سکتا ہے۔

    سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃاللہ الوالی ارشاد فرماتے ہیں :''ان تمام صورتوں میں اَجر ضائع ہوسکتا ہے اوراس سے صرف صدیقین ہی محفو ظ رہ سکتے ہیں۔'' 

    حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں :''اللہ عزوجل قیامت کے دن قاریوں سے ارشاد فرمائے گا کیا تمہیں سودا سستا نہیں دیا جاتا تھا؟ کیا تمہیں سلام کرنے میں پہل نہیں کی جاتی تھی؟ کیاتمہاری حاجتیں پوری نہیں کی جاتی تھیں؟۔''

(64)۔۔۔۔۔۔ایک حدیث (قُدسی) میں ہے :''تمہارے لئے کوئی اَجر نہیں کیونکہ تم نے اپنا اَجر پورا پورا وصول کرلیا۔''

    لہٰذا مخلص بندے ہمیشہ خفی ریا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ان کے نیک اعمال کے سلسلہ میں انہیں دھو کا نہ دے سکیں دیگر لوگ جتنی کو شش اپنے  گناہ چھپانے میں کرتے ہیں یہ ان سے زیادہ اپنی نیکیاں چھپانے کے حریص ہوتے ہیں اوراس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی نیکیوں کو خالص کرنا چاہتے ہیں تا کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن لوگوں کے سامنے انہیں اَجر عطا فرمائے کیونکہ انہیں اس بات پر یقین ہے کہ اللہ عزوجل صرف وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اخلاص کے ساتھ کئے ہوتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ سخت محتاج اور بھوکے ہوں گے اوران کا مال و اولاد انہیں کچھ کام نہ آئے گا سوائے اس کے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قلبِ سلیم (یعنی  گناہوں سے محفوظ دل )لے کر حاضر ہو گااور نہ کوئی باپ اپنی