یہ وہ قسم ہے جس میں نفوس کی آفات اور قلوب کی مصیبت کی وجہ سے جاہل تو جاہل بڑے بڑے علماء بھی پھسل جاتے ہیں۔
ریا یا تو جلی یعنی واضح ہوتی ہے یا خفی ہوتی ہے۔ جلی ریا سے مراد وہ ریا ہے جو عمل پر ابھارے اور اس کا باعث بنے۔جبکہ خفی ریا سے مراد وہ ریا ہے جو عمل پر تو نہ ابھارے البتہ مشقت میں کمی کر دے، جیسے کوئی شخص روزانہ نمازِ تہجد ادا کرنے کا عادی ہولیکن اس طرح کہ وہ نماز اس پر گراں گزرتی ہو، مگر جب اس کے ہاں کوئی مہمان آئے یا کوئی شخص اس کی تہجد پر مطلع ہو جائے تو اب اس کی چستی میں اضافہ ہو جائے اور اس پر وہ گراں بھی نہ گزرے، نیز اس کے ساتھ ساتھ اس کا یہ عمل اللہ عزوجل کی رضا کے لئے بھی ہو(تو یہ خفی ریاہے) کیونکہ اگر ثواب کی امید نہ ہوتی تو وہ تہجد ہی ادا نہ کرتا۔ خفی ریاء کی پہچان کی علامت یہ ہے کہ وہ تہجدادا کرتا رہے اگرچہ کوئی اس کے عمل پر مطلع نہ بھی ہو۔
اس سے بھی زیادہ خفی ریا وہ ہے جو نہ تو آسانی مہیا کرے اور نہ ہی کسی تخفیف کا سبب بنے، اس کے باوجود وہ ریاکاری میں اس طرح مبتلا ہوجائے جیسے پتھر میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی خفی ریا کو پہچاننا علامات کے بغیر ممکن نہیں ہوتا اور اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ لوگوں کا کسی کی اطاعت اور عبادت پر مطلع ہونا اسے خوش کردے۔
کچھ بندے اپنے عمل میں ریاکاری کوناپسند کرتے ہیں اور اس کی مذمت بھی کرتے ہیں، انہیں ریاکاری نہ تو کسی عمل کی ابتداء پر ابھارتی ہے نہ ہی کسی عمل پر قائم رکھتی ہے، البتہ جب لوگ ان کی عبادت پر مطلع ہوتے ہیں تو انہیں خوشی حاصل ہوتی ہے اس صورت میں ریا ان کے دل میں اس طرح پوشیدہ ہوتی ہے جیسے پتھر میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہ خوشی خفی ریا پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر دل لوگوں کی طرف متوجہ نہ ہوتا تو وہ اپنی عبادت پر ان کے آگاہ ہونے سے خوشی کا اظہار نہ کرتا، چونکہ ''لوگوں کے اس کے عمل سے آگاہ ہونے کوناپسندنہ کرنے نے'' اس کے سکون کو حرکت دی تو یہی چیز خفی ریا کی رگ کی غذا بن گئی، اس قسم