ترجمۂ کنز الایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ برائی کرے اسے دیکھے گا۔(پ30، الزلزا ل:7۔8)
لہٰذا اسے اپنے صحیح ارادے کے مطابق ثواب ملے گا اور غلط ارادے کے مطابق سزا ہو گی، نیز ان میں سے ایک سبب دوسرے کو فاسد نہیں کریگا۔ نفل نماز صدقہ کی طرح ہی ہوتی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اس کی نماز فاسد اور اِقتداء باطل ہے۔ اگرچہ یہ بات ظاہر بھی ہو جائے کہ اس کا مقصود ریاء اور حسنِ قراء ت کا اظہار ہے تو چونکہ مسلمان سے اچھا گمان ہی رکھنا چاہے کہ نفل سے ثواب ہی کی نیت کی ہوگی، لہٰذا اس کے اس قصد کی وجہ سے اس کی نماز اور اقتداء درست ہو جائے گی، لیکن اگر اس کی نیت میں کوئی اور قصد بھی شامل ہو جائے تو اس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو گا۔
٭۔۔۔۔۔۔یہ دونوں سبب (یعنی ریا اور ثواب کی اُمید) اگر فرض نماز کی ادائیگی کاباعث ہوں اور ان کی اپنی الگ کوئی مستقل حیثیت نہ ہو تو وہ فرض بندے سے ساقط ہی نہ ہو گا، لیکن اگر دونوں میں سے ہر ایک سبب الگ مستقل حیثیت میں ادائیگی کا باعث ہو مثلاً اگر ریا کا باعث بننے والا سبب نہ پایا جائے تو فرض ادا ہو جائے گا، لیکن اگر ثواب کا باعث بننے والا سبب نہ پایا جائے تو فرض نماز ریاکاری کی وجہ سے نئے سرے سے ادا کی جائے گی۔
اس صورت کاحکم محلِ نظر ہے یعنی اس اعتبار سے کہ فرض وہ ہوتا ہے جس کی ادائیگی محض اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ہو اور یہاں ایسی عبادت نہیں پائی گئی۔ اور اس اعتبار سے کہ فرض اس شرعی حکم کی بجا آوری کا نام ہے جو کہ خود ایک مستقل ادائیگی کا باعث ہوتی ہے جوکہ یہاں پائی گئی ہے، لہٰذاکسی دوسرے ارادے کا اس میں شامل ہو جانا فرض کی ادائیگی کو ساقط نہیں کر سکتا، جیسا کہ کوئی شخص غصب کی گئی زمین میں نماز پڑھے۔
٭۔۔۔۔۔۔اگر ریاکاری اصلِ نماز میں نہ ہو بلکہ اس کی خاطر جلدی کرنے میں ہو تو ایسی صورت میں بالاتفاق اس کی نماز درست ہو گی کیونکہ یہ ریا اصلِ نماز میں نہیں بلکہ اسے جلدی یا دیر سے ادا کرنے میں ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔نیز فقط لوگوں کے اس کے نیک اعمال سے آگاہ ہو جانے پراُس کا خوش ہونا جبکہ اس کا اثر عمل میں نہ ہو تو فقہی لحاظ سے یہ عمل بھی ادا ہو گا، فاسد نہیں ہوگا۔