| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
نیت مغلوب ہوتو اس صورت میں عبادت کے فاسد ہونے میں علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو تردد ہے، امام حارث محاسبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی رائے میں عبادت فاسد ہوجائے گی۔ جبکہ ہمارے نزدیک اس صورت میں سب سے بہترقول یہ ہے کہ اگر عمل میں ریا کا اثر ظاہر نہ ہو بلکہ عمل خالص دینی نیت سے کیا گیا ہو لوگوں کے اس عمل پر اطلاع سے بندے کو خوشی حاصل ہوتی ہو تو اصلِ نیت کے باقی رہنے اورعمل کومکمل کرنے کی نیت کے پائے جانے کی وجہ سے عمل فاسد نہ ہوگا اوراگر صورت حا ل یہ ہو کہ اگر لوگ موجود نہ ہوتے تو بندہ اپنی نماز توڑ ڈالتا تو ایسی نماز فاسد اور واجب الاعادہ ہے، اگرچہ فرض نماز ہی کیوں نہ ہو۔
ریاکاری کے احکام
ریاکاری کی مذمت میں وارد احادیثِ مبارکہ سے یہ اَحکام مستنبط ہوتے ہیں: ٭۔۔۔۔۔۔جب صرف مخلوق کی خوشنودی کے ارادے سے عمل کیا جائے تو یہ ریاء ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔ شرک کرنے کے بارے میں وارداحادیثِ مبارکہ ریاء اور ثواب کے قصد کے برابر ہونے یا ثواب پر ریا کی نیت کے غالب ہونے پر محمول ہیں۔ ٭۔۔۔۔۔۔اگر ثواب کے مقابلے میں ریاکاری کی نیت کمزور ہو تونماز فاسد نہیں ہو گی، لیکن اگر ریاکاری کی نیت نماز میں تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام تک رہی تو بالاتفاق اس کی نماز نہیں ہوئی اور ایسی نماز کا کوئی اعتبار نہیں۔ ٭۔۔۔۔۔۔اگر نماز کے دوران یہ شخص ریاکاری سے باز آ گیا اور توبہ کر لی تو ایک گروہ کہتا ہے :''یہ عبادت ادا نہیں ہوئی لہٰذا وہ اسے دوبارہ پڑھے گا۔'' اور دوسرا کہتا ہے :''تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ اس کی ساری نماز باطل ہو گئی لہٰذا وہ تحریمہ پر بناء رکھتے ہوئے نماز ادا کریگا۔'' جبکہ ایک گروہ کے نزدیک يہ ہے :''اس پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی اور جہاں وہ ہے وہیں سے اپنا عمل پورا کریگاکیونکہ اعمال کا دارو مدار ان کے انجام پر ہوتا ہے جیسے اگر کوئی اخلاص کے ساتھ عمل شروع کرے اور اس کے عمل کا انجام ریاکاری پر ہو تو اس کا عمل فاسد ہو جائے گا۔'' آخری دو اقوال فقہی قیاس سے خارج ہیں، بالخصوص ان میں سے پہلا قول تو ہر گز قرینِ قیاس نہیں کیونکہ جب عمل کا اِختتام اخلاص پر ہو تو وہ اس وجہ سے صحیح ہو گا کہ ریاکاری تو صرف نیت کو خراب کرتی ہے نہ کہ عمل کو۔ اور فقہی قیاس کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ عمل کی ابتداء کا سبب ریاکاری ہو نہ کہ ثواب کی طلب اور حکمِ شریعت کی بجا آوری تو اس کی ابتداء ہی درست نہ ہو گی لہٰذا بعد کا عمل بھی درست نہ ہو گا کیونکہ اس کی نیت ہی پختہ نہ رہی جو کہ شرط تھی اور لوگوں کی وجہ سے حرام ہو چکی تھی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کسی کے کپڑے نجس ہوں اور وہ تنہائی میں نماز پڑھے تو اس کے باوجود وہ نماز سرے سے نہیں ہو گی۔ ٭۔۔۔۔۔۔لیکن اگر معاملہ یوں ہو کہ لوگوں کی عدم موجودگی میں صحیح طریقے سے نماز پڑھے مگر اپنی تعریف کی رغبت بھی ہو تو اس