Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
161 - 857
    یہ ایسے مسائل ہیں کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اس اعتبار سے ان میں بحث ہی نہیں کرتے اورجو لوگ ان میں بحث کرتے ہیں وہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے قوانین کا لحاظ نہیں کرتے کیونکہ وہ بندوں کے دلوں کی صفائی اور ان کی ان عبادات میں خلوص پیدا کرنے کے اِنتہائی حریص ہوتے ہیں جو (عبادات) دل میں پیدا ہونے والے ان خطرات و خدشات اور وسوسوں سے فاسد ہو جاتی ہیں، لہٰذا ان مسائل پر ہماری بحث بھی اسی حرص کا نتیجہ ہے ،اور حقیقی علم اللہ عزوجل ہی کے پاس ہے۔
تنبیہ4:

ریاء کے مختلف درجات:
    قبح کے اعتبارسے ریاء کے مختلف درجات ہیں:

(۱)۔۔۔۔۔۔ایمان میں ریاء کا سب سے قبیح درجہ ان منافقین کا ہے جن کی مذمت اللہ عزوجل نے اپنی پاک کتاب میں بہت سے مقامات پر فرمائی، نیز اس فرمانِ عبرت نشان میں ان سے وعدہ فرمایا :
اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرْکِ الۡاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں۔(پ5،النسآء: 145)

    یہ لوگ اگرچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے زمانے کے بعد کم ہو گئے مگر قباحت میں ان جیسے لوگ کثرت سے ہونے لگے، جیسے کفریہ بدعات کا عقیدہ رکھنے والے مثلاً حشر کا انکار، اللہ عزوجل کے علمِ جزئیات کا انکار اور مخالفت کے اظہار کے باوجود ہر شئے میں اباحتِ مطلقہ کا عقیدہ رکھنا، ان قبیح احوال کے بعد کوئی چیز نہیں۔ 

(۲)۔۔۔۔۔۔فرض عبادات پر ریاکاری کرنے والوں کا مرتبہ ان کے بعد ہے جیسے کوئی شخص خلوت میں عبادت ترک کرنے کی عادت بنائے اور لوگوں کے سامنے مذمت کے خوف سے اسے ادا کرلیا کرے، اللہ عزوجل کے نزدیک اس کا  گناہ بہت سخت ہے کیونکہ یہ عمل جہالت کی اِنتہاء کا پتہ دیتا ہے اور نافرمانی کے سب سے بڑے درجے کی طرف لے جاتا ہے۔ 

(۳)۔۔۔۔۔۔نوافل میں ریاکاری کرنے والوں کا درجہ ان کے بعد ہے، مثلاً کوئی تنہائی میں اس وجہ سے نوافل ادا کرنے کی عادت بنائے تا کہ لوگوں کے سامنے اس میں کوتاہی نہ ہو اور سستی دور ہو جائے حالانکہ خلوت میں ان کے ثواب میں رغبت نہ ہو۔ 

(۴)۔۔۔۔۔۔ان کے بعد اپنی عبادت میں عمدہ اوصاف کے ذریعے ریا میں مبتلا لوگوں کادرجہ ہے جیسے نماز اچھی طرح ادا کرنا، اس
Flag Counter