Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
154 - 857
گناہ بھی کرتے ہیں اور اس پر دلیری بھی دکھاتے ہیں۔ 

    یا پھر صالحین کا سا حلیہ اختیار کرنا جیسے چلتے وقت سر جھکائے رکھنا، پُروقار انداز میں چلنا، چہرہ پر سجود کا اثر باقی رکھنا، اونی اور کھردرا لباس پہننا اور ہر وہ صورت اپنانا کہ یہ وہم پیدا ہو کہ وہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اور سادات صوفیا ء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے ہے حالانکہ وہ علم کی حقیقت اور باطن کی صفائی کے معاملہ میں مفلس ہو۔ 

    یہ دھوکے باز شخص اس بات کونہیں جانتا کہ جو کچھ اسے یہ لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے ملا ہے اس کو قبول کرنا اس پر حرام تھا، اگر اس نے وہ چیز قبول کر لی تو وہ باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے فاسق ہو جائے گا۔
 (۲)۔۔۔۔۔۔ریاء بالاقوال:
    کسی کا وعظ ونصیحت اور سنتوں کو زبانی یاد کرنے کا اظہار کرنا بھی ریاکاری ہے، نیز مشائخ سے ملاقات اور علوم کی پختگی وغیرہ بہت سے ایسے طریقے ہیں جو ریاکاری کے اسباب بن سکتے ہیں کیونکہ قول کے ذریعے ریا کا وقوع کثیر ہے نیز اس کی انواع کوشمار بھی نہیں کیا جا سکتا۔
 (۳)۔۔۔۔۔۔ریاء بالاعمال:
    ارکانِ نماز کو طویل کرنا اور انہیں عمدگی سے ادا کرنا اور ان میں خشوع ظاہر کرنا، اسی طرح روزہ اور حج وغیرہ دیگر عبادات اور اعمال میں بھی ریاکاری کی انواع بے شمار ہیں۔

    بعض اوقات ریاکار دکھاوے کے کاموں کو پختہ کرنے کا اتنا حریص ہوتا ہے کہ تنہائی میں بھی ان افعال کی مشق کرتا رہتا ہے تا کہ لوگوں کے مجمع میں بھی اس کی یہ عادت قائم رہے،لیکن وہ ایساخوفِ خدا عزوجل اور اس سے حیاء کے سبب نہیں کرتا۔
 (۴)۔۔۔۔۔۔ریاء بالاصحاب:
    اسی طرح دوستوں اور ملاقات کے لئے آنے والوں کے ذریعے بھی ریاکاری ہو سکتی ہے جیسے کوئی کسی عالم، امیر یا نیک صالح بندے سے اپنے ہاں آنے کی تمنا کرے اور اس سے اس کی رفعت اور بزرگوں کا اس سے برکت حاصل کرنے کا گمان پیدا ہو اور اسی طرح کوئی شخص دوسروں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہے کہ وہ بہت سے شیوخ سے ملا ہے۔ 

    یہ صورت ریاکاری کے ان ابواب کا مجموعہ ہے جو جاہ و منزلت اور شہرت کے حصول پر اُبھارتا ہے تا کہ لوگ اس کی تعریف کریں اورساری دنیا کا مال و متاع اس کے پاس جمع ہو۔
Flag Counter