Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
153 - 857
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰی مَا عَمِلُوۡا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنۡثُوۡرًا ﴿23﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرما کر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔ (پ19، الفرقان:23)

    یعنی جب انہوں نے اپنے اعمال سے غیر اللہ کی رضا کا ارادہ کیا توان کا ثواب باطل ہو گیا اور وہ اڑتے ہوئے اس غبار کی طرح ہو گئے جو سورج کی شعاعوں میں نظر آتا ہے۔
تنبیہات
تنبیہ1:

ریاء کی لغوی و اصطلاحی تعریف:
    رِیَائٌ، رَؤْیَۃٌ اور سُمْعَۃٌ، سِمَاعٌ سے مأخوذ ہے۔ جس ریاء کی مذمت کی گئی ہے اس کی تعریف یہ ہے :''بندہ اللہ عزوجل کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت یا ارادے سے عبادت کرے۔ مثلاً لوگوں کو اپنی عبادت اور کمال سے آگاہ کرنا مقصود ہو تا کہ اسے لوگوں سے مال وجاہ یاثناء وغیرہ حاصل ہو۔
ریاکاری کی پہچان کے طریقے:
     ریا کی چند اقسام ہیں :(۱)ریاء بالاحوال(۲)ریاء بالاقوال(۳) ریاء بالاعمال (۴)ریاء بالاصحاب۔
 (۱)۔۔۔۔۔۔ریاء بالاحوال:
    اس کی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کا اپنے جسم پر تھکن یا پیلاہٹ ظاہر کرنا، پراگندہ بال اور گھٹیا ہیئت کا اظہار، غم کی کثرت، غذا کی قلت اور اہم کام میں مشغول ہونے کی وجہ سے اپنے آپ پر توجہ نہ دینے اور لگاتار روزوں اور شب بیداریوں، دنیا اور دنیا والوں سے بے رغبتی اور عبادت میں خوب کوشش کا وہم پیدا کرنے کے لئے پست آواز میں بولنا اور آنکھیں بند رکھنا۔

    ایسے ذلیل ورسوا لوگ کیا جانیں کہ اس وقت وہ بھتہ خوروں اور ڈاکوؤں جیسے لوگوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں کیونکہ وہ تو اپنے گناہوں کے معترف ہیں اور ان رسوا اور ذلیل لوگوں کی طرح ا پنی دینداری پر غرور نہیں کرتے ، جبکہ یہ بدبخت وذلیل لوگ
Flag Counter