| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
پر ظاہر کر دیتا ہے تو اللہ عزوجل اسے پوشیدہ اعمال سے مٹاکر اعلانیہ اعمال میں لکھ دیتاہے، پھر جب وہ دوسری مرتبہ اپنا عمل ظاہر کرتا ہے تو اللہ عزوجل اسے پوشیدہ اور اعلانیہ نیکیوں میں سے مٹا کر ریاکاری میں لکھ دیتا ہے۔''
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،الحدیث:۷۱۸،ج۱،ص۱۱۶)
(43)۔۔۔۔۔۔ مروی ہےکہ اللہ عزوجل فرماتاہے :''میں اچھا بدلہ دینے والا ہوں لہٰذا جو کسی کو میرا شریک ٹھہرا ئے گا وہ میرے شریک کے لئے ہی ہو گا۔'' اے لوگو! اپنے عمل میں اللہ عزوجل کے لئے اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لئے کئے جاتے ہیں اور جو کام اللہ عزوجل کے لئے کیا جاتا ہو اس کے بارے میں یہ مت کہوکہ میں یہ کام اللہ عزوجل اور رشتہ داری کی وجہ سے کر رہا ہوں، کیونکہ وہ کام پھر رشتہ داری کے لئے ہی ہو گا نہ کہ اللہ عزوجل کے لئے۔''
(شعب الایمان، باب فی اخلاص العمل للہ وترک الریاء،الحدیث:۶۸۳۶،ج۵،ص۳۳۶)
(44)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جس نے اللہ عزوجل کی رضا کے لئے حاصل کیا جانے والا علم، دنیا کا مال پانے کے لئے حاصل کیا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب العلم، باب فی طلب لغیر اللہ، الحدیث:۳۶۶۴،ص۱۴۹۴)
(45)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، نورِ مجسَّم،شاہِ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغریعنی ریاکاری کاخوف ہے، جب لوگ اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو ریاکاروں سے کہا جائے گا :''ان کے پاس جاؤجن کے لئے تم ریا کاری کیا کرتے تھے اور ان کے پاس اپنا اجر تلاش کرو۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۴۳۰۱،ج۴،ص۲۵۳)
(46)۔۔۔۔۔۔ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''کیامیں تمہیں نہ بتاؤں کہ مجھے تم پر چہرے بگڑ جانے سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے، وہ شرکِ خفی ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کے مرتبہ کی خاطر کوئی عمل کرے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی سعید الخدری،الحدیث:۱۱۲۵۲،ج۴،ص۶۱)
(47)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کی اطاعت کو بندوں سے تعریف کی محبت سے ملانے (یعنی لوگوں کی زبانوں سے اپنی تعریف پسندکرنے)سے بچتے رہوکہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں۔''
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الالف،فصل فی التحذیر والوعید،الحدیث:۱۵۶۷،ج۱،ص۲۲۳)
(48)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے لوگو! پوشیدہ شرک سے بچتے رہواور وہ یہ ہے کہ آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو اور لوگوں کی نظروں کو اپنی جانب متوجہ پانے کی وجہ سے اپنی نماز کو سنوارے یہی پوشیدہ شرک ہے۔''
(السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب الصلوٰۃ ، باب الترغیب فی تحسین الصلوٰۃ ، الحدیث:۳۵۸۵،ج۲،ص۴۱۳)