Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
149 - 857
(49)۔۔۔۔۔۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''شرک خفی سے بچتے رہو جو یہ ہے کہ بندہ لوگوں کی نگاہوں کی وجہ سے نمازکے رکوع و سجود کامل طریقے سے ادا کرے۔''
(شعب الایمان ،باب فی الصلوات ،الحدیث:۳۱۴۱،ج۳،ص۱۴۴)
(50)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''میری اُمت کا شرک چکنے پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی آواز سے بھی زیادہ مخفی ہو گا اور مؤمن اور کافر کے درمیان فرق نماز کاترک کرنا ہے۔''
(المستدرک ،کتاب التفسیر،باب اخبار القتل عوض الحسین۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۲۰۲،ج۳،ص۷)

(سنن ابن ماجہ ، ابواب اقامۃ الصلوٰات ، باب ماجاء فی من ترک الصلوٰۃ ، الحدیث:۱۰۸۰،ص۲۵۴۰،''الکفر'' بدلہ'' الشرک'')
(51)۔۔۔۔۔۔ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ''جس نے کوئی عمل کیا اوراس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کیا تو اس کا سارا عمل اسی کے لئے ہے جبکہ میں شریکوں سے بے نیاز ہوں۔''
             (سنن ابن ماجہ،ابواب الزہد،باب الریاء والسمعۃ ، الحدیث:۲۷۳۲،ص۴۲۰۲،''بتقدمٍ وتاخرٍ'')
(52)۔۔۔۔۔۔نبی رحمت ،شفیع اُمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جوبندہ دنیا میں ریاکاری اور شہرت کے مقام و مرتبہ پر ہو تو اللہ عزوجل جمعہ کے دن اسے لوگوں کے سامنے رسوا کریگا۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۲۳۷،ج۲۰،ص۱۱۹،''یوم الجمعۃ'' بدلہ'' یوم القیٰمۃ '')
    یہاں جمعہ سے مراد قیامت کا دن ہے کیونکہ اسی دن سب سے بڑا مجمع ہوگا۔

(53)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو لوگوں کی خاطر ایسے اعمال سے خود کو مزین کرے کہ جن کی حقیقت اللہ عزوجل کے علم میں کچھ اور ہو تو اللہ عزوجل اس کو اپنی بارگاہ سے دور فرما دیتا ہے۔''
      (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:۲۱۶۶۰،ج۷،ص۱۶۹)
(54)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جواپنے قول اور لباس کے ذریعے لوگوں کی خاطر بنے سنورے اور عمل میں اس کے خلاف کرے اس پر اللہ عزوجل، ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔''
           (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:۲۱۷۰۰،ج۷،ص۱۷۵)
(55)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے ریاکاری کے ساتھ نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے ریاکاری کے طور پر صدقہ دیا اس نے بھی شرک کیا۔''
                         (المعجم الکبیر،الحدیث:۷۱۳۹،ج۷،ص۲۸۱)
Flag Counter