(38)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :تم لوگوں میں شرک چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہو گا اور اب میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتاہوں کہ جب تم اسے کرو گے تو شرک کا چھوٹا بڑا عمل تم سے دُور ہوجائے گا۔ تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لیا کرو:
''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ وَاَنَا اَعْلَمُ وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَآاَعْلَمُ،
یعنی اے اللہ عزوجل! میں جان بوجھ کر تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پناہ چاہتاہوں اور لاعلمی میں ایسا عمل کرنے پر تجھ سے مغفرت چاہتاہوں۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ، باب الریاء،الحدیث:۷۵۰۰،ج۳،ص۱۹۱)
(39)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم لوگوں میں شرک چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہو گا۔ بے شک آدمی کا یہ کہنا بھی شرک ہے :''جو اللہ عزوجل اور میں چاہوں گا وہی ہو گا۔'' اور آدمی کایہ کہنا(یعنی یہ اعتقاد رکھنا) بھی شرک ہے :''اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو فلاں مجھے قتل کر دیتا۔'' کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل تم سے چھوٹا بڑا شرک دور فرما دے، روزانہ تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لیا کرو:
''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ وَاَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَآاَعْلَمُ ،
یعنی اے اللہ عزوجل! میں جان بوجھ کر تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پناہ چاہتاہوں اور لاعلمی میں ایسا عمل کرنے پر تجھ سے مغفرت چاہتاہوں۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الریاء،الحدیث:۷۵۱۹،ج۳،ص۱۹۴)
(40)۔۔۔۔۔۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مجھے اپنی اُمت پر شرک اورمخفی شہوت کا خوف ہے۔'' عرض کی گئی :''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اُمت شرک میں مبتلا ہو جائے گی؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ہاں! مگر یہ لوگ سورج، چاند، پتھر یابتوں کی پوجا نہیں کریں گے بلکہ لوگوں کے سامنے دکھاوے کے لئے عمل کریں گے اورخفیہ شہوت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی روزہ رکھ کر پھر کسی نفسانی خواہش کی بناء پر توڑ ڈالے۔''
(المسندللامام احمد ، مسند الشامیین، الحدیث:۱۷۱۲۰،ج۶، ص۷۷)
(41)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندہ صبح کو روزہ دار ہو گا پھر اس کی کوئی خواہش اس کے سامنے آئے گی تو وہ اس خواہش میں مبتلا ہو کر اپنا رو زہ توڑ ڈالے گا۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۴۲۱۳،ج۳،ص۱۶۸)
(42)۔۔۔۔۔۔ نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''آدمی پوشیدہ طور پر کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ عزوجل اسے اپنے پاس پوشیدہ نیکیوں میں لکھ لیتاہے،پھر شیطان اس شخص کے پیچھے پڑجاتاہے یہاں تک کہ وہ شخص اپنا عمل لوگوں