(فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہے: )''جس نے اللہ عزوجل کے ساتھ غیر خدا کے لئے دکھلاوا کیا تحقیق وہ اللہ عزوجل کے ذمۂ کرم سے بری ہو گیا ۔''
(المعجم الکبیر ،الحدیث ۸۰۵،ج۲۲،ص۳۲۰)
(33)۔۔۔۔۔۔سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جودکھاوے اور شہرت کے مقام پرکھڑا ہو تو جب تک بیٹھ نہ جائے اللہ عزوجل کی ناراضگی میں ہے۔''
(مجمع الزوائد،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الریا، الحدیث:۱۷۶۶۴،ج۱۰،ص۳۸۳)
(34)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جودکھاوے کے لئے عمل کریگا اللہ عزوجل اسے رسوا کریگا اور جو شہرت کے لئے عمل کریگا اللہ عزوجل اسے اس کے سبب عذاب دے گا۔
(سنن ابن ماجہ ، ابواب الزھد،باب الریاء والسمعۃ، الحدیث:۴۲۰۷،ص۲۷۳۲)
اس حدیث مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنا نیک عمل لوگوں کے سامنے اس لئے ظاہر کرے تا کہ وہ ان کے نزدیک معظم و محترم ہو جائے حالانکہ وہ نیک نہ ہو تو اللہ عزوجل قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اس کا راز کھول دے گا۔
(35)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ایسی چیز ظاہر کرنے والا جو اسے عطا نہ کی گئی ہو جھوٹ کا لباس پہننے والے کی طرح ہوتا ہے۔ ''
(صحیح البخاری ،کتاب النکاح،باب المتشبع بما لم ینل، وما ینھی من ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۹ ۵۲،ص۴۵۱)
(36)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''میری اُمت کا شرک چکنے پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی آواز سے زیادہ مخفی ہوگا۔''
(الکامل فی الضعفاء،ج۹،ص۹۸)
(37)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے لوگو! شرک سے بچتے رہنا کیونکہ یہ چیونٹی کی آواز سے زیادہ مخفی ہے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہم شرک سے کس طرح بچ سکتے ہیں؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''یہ دعا پڑھ لیاکرو:
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ اَنْ نُّشْرِکَ بِکَ شَیْئًا نَعْلَمُ وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَالَانَعْلَمُہ،،
یعنی اے اللہ عزوجل ! ہم دانستہ طور پر کسی کو تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پنا ہ چاہتے ہیں