| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(23)۔۔۔۔۔۔عقیلی اور دیلمی سے مروی ہے کہ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ''اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت بندہ وہ ہے جس کے کپڑے اس کے عمل سے اچھے ہوں وہ اس طرح کہ اس کا لباس تو انبیاء کرام علیہم السلام جیسا ہو مگر عمل متکبرین کا سا ہو۔''
(الضعفاء للعقیلی،باب السین،الحدیث:۶۷۴،ج۲،ص۵ ۵۳)
(24)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''شہرت والی دو چیزوں سے بچتے رہو۔ صوف یعنی اُون اور ریشم سے، قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس شخص کو ہو گا جسے لوگ تو اچھا سمجھیں مگر اس میں کوئی اچھائی نہ ہو۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الریاء،الحدیث:۸۲۔۷۴۸۱،ج۳،ص۱۹۰)
(25)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل نے ہر ریاکار پر جنت کو حرام کردیا ہے۔''
(جامع الاحادیث،الحدیث:۶۷۲۵،ج۲،ص۴۷۶)
(26)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک زمین اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ریا کے طور پر اونی لباس پہننے والوں کے بارے میں فریاد کرتی ہے۔''
(ایضاً،الحدیث:۴۹۷۵،ج۲،ص۲۱۹)
(27)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کچھ روزہ داروں کو روزے سے بھوک کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کچھ عبادت گزاروں کورات کی عبادت سے شب بیداری کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔''
(سنن ابن ماجہ ، ابواب الصیام،باب ماجاء فی الغیبۃ والرفث للصائم،الحدیث:۱۶۹۰،ص۲۵۷۸)
(28)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کچھ عابدوں کو عبادت سے شب بیداری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کچھ روزہ داروں کو روزے سے بھوک اور پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۳۴۱۳،ج۱۲،ص۲۹۲،بتقدم وتأخر)
(29)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے مگر آخرت کے عمل سے دنیا طلب کرنے والا اسے نہ پاسکے گا۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،باب الریاء،الحدیث:۷۴۸۹،ج۳،ص۱۹۰)
(30)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے لوگوں کے سامنے اچھے طریقے سے اور تنہائی میں برے طریقے سے نمازادا کی، بے شک اس نے اپنے رب عزوجل کی توہین کی۔''
(مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند عبداللہ بن مسعود،الحدیث:۵۰۹۵،ج۴،ص۳۸۰)
(31)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے آخرت