| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ان کی طرف وحی فرمائے گا :''تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر مامور ہو اور میں اس کے دل سے باخبر ہوں، میرا یہ بندہ میرے لئے عمل کرنے میں مخلص نہیں تھا لہٰذا اسے سجین میں لے جاؤ۔'' اسی طرح فرشتے ایک بندے کے عمل کو کم اور حقیر جانتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنی سلطنت میں جہاں چاہے گاوہ فرشتے وہاں پہنچ جائيں گے تو اللہ عزوجل ان کی طرف وحی فرمائے گا :''تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر مامور ہو اور میں اس کے دل سے باخبر ہوں، میرا یہ بندہ میرے لئے عمل کرنے میں مخلص ہے لہٰذا اسے علیین میں لے جاؤ۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف الراء ،باب الریاء،الحدیث:۷۵۰۵،ج۳،ص۱۹۲)
(18)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب قیامت کا دن آئے گا تو ایک منادی ندا دے گا کہ جس نے اللہ عزوجل کے غیر کے لئے عمل کیا وہ اپنا ثواب اسی کے پاس تلاش کرے جس کے لئے اس نے عمل کیا تھا۔''
(جامع الاحادیث،الحدیث:۲۴۷۶،ج۱،ص۳۶۱،مفہومًا)
(19)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل ان پرہیزگار گم نام بندوں سے محبت فرماتا ہے جو غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیاجائے اور جب حاضر ہوں تو پکارے نہ جائیں اور نہ ہی پہچانے جائیں وہ ہدا یت کے چراغ ہیں اور ہر اندھیری زمین سے طلوع(يعنی ظاہر) ہوتے ہیں۔''
(سنن ابن ماجہ ، ابواب الفتن، باب من ترجی لہ السلامۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۹۸۹،ص۲۷۱۶)
(20)۔۔۔۔۔۔ نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' وادئ حزن سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگا کرو کیونکہ یہ ایسی وادی ہے جس سے جہنم بھی روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے، اس میں دکھاوے کے لئے عمل کرنے والے قاری داخل ہوں گے اور بے شک اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ قاری وہ ہیں جو اُمراء سے ملنے کے لئے جاتے ہیں۔''
(سنن ابن ماجہ ، ابواب الطہارت، باب الانتفاع بالعلم۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۵۶،ص۲۴۹۳)
(21)۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ،مُجسَّم شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے، اللہ عزوجل نے یہ وادی اُمت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے ان ریاکاروں کے لئے تیار کی ہے جو قرآنِ پاک کے حافظ، غیر اللہ کے لئے صدقہ کرنے والے، اللہ عزوجل کے گھر کے حاجی اور راہ خدا عزوجل میں نکلنے والے ہوں گے۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۲۸۰۳،ج۱۲،ص۱۳۶)
(22)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم،نورِ مجسَّم ،شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو شہرت کے لئے عمل کریگا اللہ عزوجل اسے رسوا کریگا، جو دکھاوے کے لئے عمل کریگا اللہ عزوجل اسے عذاب دے گا اور جو مخالفت کریگااللہ عزوجل قیامت کے دن اسے مشقت میں ڈالے گا۔''
(جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:۲۰۷۴۰،ج۷،ص۴۴)