آئے گا تو اللہ عزوجل اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ان پر(نقل و حرکت اور جہات واجسام کے لوازمات سے پاک) تجلی فرما ئے گا اس وقت ہر اُمت گھٹنوں کے بل کھڑی ہو گی، سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں ایک قرآن کریم کا حافظ، دوسرا راہِ خدا عزوجل میں مارا جانے والا شہیداور تیسرا بہت مالدار ہو گا، اللہ عزوجل قاری سے ارشاد فرمائے گا :''کیا میں نے تجھے اپنے رسول پراتارا ہوا کلام نہیں سکھایا تھا؟'' وہ عرض کریگا :''کیوں نہیں ،یا رب عزوجل!'' اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''پھر تُو نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟'' وہ عرض کریگا: ''یارب عزوجل! میں دن رات اسے پڑھتا رہا۔'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''تو جھوٹا ہے تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تیرے بارے میں یہ کہیں :''فلاں شخص قاری ہے۔'' اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔'' پھرمالدار کو لایا جائے گا تواللہ عزوجل اس سے ارشاد فرمائے گا: ''کیا میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کو وسیع نہ کیا یہاں تک کہ میں نے تجھے کسی کا محتا ج نہ چھوڑا؟'' تو وہ عرض کریگا: ''کیوں نہیں یا رب عزوجل!'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''تو نے میرے عطا کردہ مال میں کیا کیا؟'' وہ عرض کریگا: ''میں صلہ رحمی کرتا اور صدقہ کرتا تھا۔'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا :''تیرا مقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہاجائے :''فلاں بہت سخی ہے۔'' اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔'' پھر راہِ خدا عزوجل میں مارے جانے والے کو لایا جائے گا تو اللہ عزوجل اس سے پوچھے گا :'' تجھے کیوں قتل کیا گیا؟'' وہ عرض کریگا: ''مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا تو میں مرتے دم تک لڑتا رہا۔'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''تو جھوٹا ہے بلکہ تیرامقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے: ''فلاں بہت بہادر ہے۔'' اور وہ تجھے کہہ لیاگیا۔'' اے ابو ہریرہ! یہ اللہ عزوجل کی مخلوق کے وہ پہلے تین افراد ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا ۔ ''