Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
141 - 857
آئے گا تو اللہ عزوجل اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ان پر(نقل و حرکت اور جہات واجسام کے لوازمات سے پاک) تجلی فرما ئے گا اس وقت ہر اُمت گھٹنوں کے بل کھڑی ہو گی، سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ان میں ایک قرآن کریم کا حافظ، دوسرا راہِ خدا عزوجل میں مارا جانے والا شہیداور تیسرا بہت مالدار ہو گا، اللہ عزوجل قاری سے ارشاد فرمائے گا :''کیا میں نے تجھے اپنے رسول پراتارا ہوا کلام نہیں سکھایا تھا؟'' وہ عرض کریگا :''کیوں نہیں ،یا رب عزوجل!'' اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''پھر تُو نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟'' وہ عرض کریگا: ''یارب عزوجل! میں دن رات اسے پڑھتا رہا۔'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''تو جھوٹا ہے تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تیرے بارے میں یہ کہیں :''فلاں شخص قاری ہے۔'' اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔'' پھرمالدار کو لایا جائے گا تواللہ عزوجل اس سے ارشاد فرمائے گا: ''کیا میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کو وسیع نہ کیا یہاں تک کہ میں نے تجھے کسی کا محتا ج نہ چھوڑا؟'' تو وہ عرض کریگا: ''کیوں نہیں یا رب عزوجل!'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''تو نے میرے عطا کردہ مال میں کیا کیا؟'' وہ عرض کریگا: ''میں صلہ رحمی کرتا اور صدقہ کرتا تھا۔'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا :''تیرا مقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہاجائے :''فلاں بہت سخی ہے۔'' اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔'' پھر راہِ خدا عزوجل میں مارے جانے والے کو لایا جائے گا تو اللہ عزوجل اس سے پوچھے گا :'' تجھے کیوں قتل کیا گیا؟'' وہ عرض کریگا: ''مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا تو میں مرتے دم تک لڑتا رہا۔'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''تو جھوٹا ہے بلکہ تیرامقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائے: ''فلاں بہت بہادر ہے۔'' اور وہ تجھے کہہ لیاگیا۔'' اے ابو ہریرہ! یہ اللہ عزوجل کی مخلوق کے وہ پہلے تین افراد ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا ۔ ''
    (جامع الترمذی،ابواب الزھد،باب ماجاء فی الریاء والسمعۃ،الحدیث:۲۳۸۲،ص۱۸۹۰)
(9)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید کا فیصلہ ہو گا جب اسے لایاجائے گا تو اللہ عزوجل اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا :''تُو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟'' وہ عرض کرے گا :''میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔'' تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا :''تُو جھوٹا ہے تو نے جہاد اس لئے کیاتھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا، پھر اس کے بارے میں جہنم میں جانے کا حکم دے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔ پھر اس شخص کو لایا جائیگا جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآن کریم پڑھا ،وہ آئے گا تو اللہ عزوجل اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ عزوجل اس سے دریافت فرمائے گا :''تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟'' وہ عرض کرے گا کہ ''میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیرے لئے قرآنِ کریم پڑھا۔'' اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ''تُو جھوٹا ہے تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور
Flag Counter