| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کی تصریح کرنے والی آیات ہیں جو اس بات پردلالت کرتی ہیں کہ ان کے عذاب کی کوئی انتہاء نہیں۔
دوسری صورت کے اعتبار سے اس کامطلب یہ ہے کہ یہ جہنمیوں کا استثناء ہے کیونکہ وہ جہنم سے''زمہریر'' اور ''حمیم '' پینے کے لئے نکلیں گے اورپھر واپس جہنم میں لوٹ جائیں گے۔ لہٰذا وہ ان اوقات کے علاوہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، یہ اوقات بھی اگرچہ عذاب ہی کے ہیں مگر اس وقت وہ حقیقتاً جہنم میں نہیں ہوں گے۔ یا پھر اس آیتِ مبارکہ میں ''ما'' ذوی العقول کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ اس آیتِ مبارکہ:فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِّنَ النَّسَاءِ
ترجمۂ کنز الایمان: تو نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں۔(پ4، النساء:3)
میں ہے، اس صورت میں گنہگار مؤمنین کا''خٰلد ین'' کی ضمیر سے مستثنیٰ متصل ہو گا کیونکہ ان میں شقی لوگ بھی شامل ہیں یا پھر یہ ان کوشامل نہ ہونے کی وجہ سے مستثنیٰ منقطع ہے اور یہ بات زیادہ واضح ہے، یاپھر یہ مستثنٰی منقطع تو ہے مگر اس میں لا،سوٰی کے معنی میں ہے، مراد یہ ہے :''جب تک زمین وآسمان قائم رہیں گے مگر جسے تمہارا رب عزوجل چاہے گا اس کے عذاب میں اضافہ فرما دے گا۔'' اس کے اور بھی بہت سے جوابات ہیں جن کے بعید ہونے کی وجہ سے میں نے ان سے اعراض کیا ہے۔
(47)۔۔۔۔۔۔امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کردہ حدیث اس کے منافی نہیں: ''جہنم پر ایک ایسا دن ضرور آئے گا جس میں اس کے دروازے کھل جائیں گے تو اس میں کوئی بھی نہ ہو گا اور یہ دن ایک زمانہ تک جہنمیوں کے جہنم میں رہنے کے بعد ہو گا۔''
کیونکہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن کے بارے میں محدثینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ''غیر ثقہ اور کثیر جھوٹی روایات بیان کرنے والا' 'کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور یہ بات جمہور محدثینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا ابن مسعود اور حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت کی ہے۔ ابن تیمیہ نے کہا :''یہ حضرت سیدنا عمر فاروق ، حضرت سیدنا ابن عباس، حضرت سیدنا ابن مسعود، حضرت سیدنا ابوہریرہ اور حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا قول ہے، حضرت سیدنا حسن بصری اور حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی بھی یہی رائے ہے نیز حضرت علی بن طلحہ الوَالِبی اورمفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ایک جماعت بھی اسی کی قائل ہے۔
حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی قول دیگر اقوال کا رد کرتاہے جیسا کہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کہنا ہے :''میں نے حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔'' اور ظاہر بھی یہی ہے کہ مذکورہ شخصیات سے اس بارے میں کوئی صحیح روایت مروی نہیں ۔اور اگر بالفرض اسے صحیح