٭۔۔۔۔۔۔یا جب تک رات دن میں اختلاف رہے گا،
٭۔۔۔۔۔۔ياجب تک سمندر موجیں مارتا رہے گا،
٭۔۔۔۔۔۔ياجب تک پہاڑ قائم رہے گا وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ ان سے اللہ عزوجل کا خطاب عربی زبان کے عرف کے مطابق ہوتاہے اور ان کے عرف میں یہ الفاظ ہمیشگی اور دوام کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
حضرت سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے زمین وآسمان کے دوام کے بارے میں مروی ہے :''تمام مخلوق کی اصل عرش کا نور ہے اور آخرت میں زمین وآسمان اسی نور کی طرف لوٹ جائیں گے جس سے انہیں پیدا کیا گیا اور پھر ہمیشہ عرش کے نور میں رہیں گے۔''
اس جواب کو اس معنی کی ضرورت ہے کہ زمین وآسمان کے دوام کی قید کو اس طرح سمجھا جائے کہ کافر جہنم میں اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ زمین وآسمان قائم رہیں گے۔
٭ ۔۔۔۔۔۔بعض حضرات نے یہ معنی مراد لینے سے منع کیاہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں چیزیں جب تک قائم رہیں گی ان کا جہنم میں رہنا بھی باقی رہے گا۔اور ایک قاعدہ بیان کیا ہے :''جب شرط پائی جائے تو مشروط کا پایا جانا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن بعض اوقات جب شرط نہ پائی جائے تو یہ بھی ضروری نہیں کہ مشروط بھی نہ پایا جائے۔ اس کی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ جیسے آپ کہیں:''اگر یہ انسان ہے توحیوان بھی ہے۔'' پھرکہیں :''مگر یہ توانسان ہی ہے۔'' لہٰذا نتیجہ نکلا کہ یہ حیوان بھی ہے، یاکہیں :''مگر یہ انسان نہیں۔'' تو اب نتیجہ یہ نہیں نکلے گا کہ یہ حیوان بھی نہیں کیونکہ مقدم کی نقیض کا استثناء درست نہیں۔
لہٰذا اب اگر اس مثال اور قاعدہ کے مطابق آیتِ مذکورہ کے مفہوم کو سمجھا جائے تو وہ کچھ اس طرح ہو گاکہ اس میں زمین و آسمان کادوام شرط اور دائمی عذاب مشروط ہے،لہٰذا جب ہم کہیں :''جب تک زمین وآسمان قائم ہیں ان کا عذاب باقی رہے گا۔'' پھر کہیں :'' مگر زمین وآسمان تو قائم ہیں۔'' تو ہمارے اسی قول سے ان کے عذاب کا دائمی ہونا ثابت ہوگیا، اور اگر ہم یہ کہیں :''زمین وآسمان قائم نہیں۔'' تو یہ ضروری نہیں کہ وہ دائمی عذاب میں بھی نہ ہوں، ان کے عذاب کے دائمی ہونے کے ساتھ زمین وآسمان کی بقا یا عدمِ بقا کی بات نہیں کی جائے گی۔ لہٰذا ان کے دوام کی قید کا کوئی فائدہ نہ رہا۔ کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس میں ایک بہت عظیم فائدہ پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ تقیید اس عذاب کے طوالت اور ہمیشہ قائم رہنے پر دلالت کرتی ہے جس کی طوالت اورلمبائی کا عقل احاطہ نہیں کرسکتی۔
پھرکیا اس عذاب کی کوئی انتہاء بھی ہے یانہیں ؟ اس کا جواب دیگر دلائل سے حاصل ہوگا جو کہ کافروں کے جہنم میں ہمیشگی