| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
تسلیم کر بھی لیں تب بھی علماءِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے بیان کے مطابق اس کامطلب یہ ہو گا :''اس میں کوئی گنہگار مؤمن نہ ہو گا جبکہ کافروں کے ٹھکانے تو جہنم میں ہی ہوں گے ،وہ اُن سے بھرا رہے گا اورکفار اس سے کبھی نہ نکلیں گے۔ جیسا کہ اللہ عزوجل نے بہت سی آیات میں اس بات کو ذکر کیا ہے۔
حضرت سیدنا امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تفسیرِ کبیر میں ہے :''ایک قوم کاکہنا ہے کہ کافروں کاعذاب ختم ہو جائے گا اور ان کے عذاب کی بھی ایک انتہاء ہے۔'' اور وہ اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہيں:لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحْقَابًا ﴿ۚ23﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اس میں قرنوں(مدتوں) رہیں گے۔ (پ30، النباء:23)
وہ اس طرح کہ ظلم کا گناہ متناہی ہے، لہٰذا اس پر لامتناہی سزا دینا ظلم ہے۔ اس آیتِ مبارکہ سے استدلال کا جواب پیچھے گزر چکا اور اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان اَحْقَابًا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ان کے عذاب کی کوئی انتہاء ہے، کیونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ عرب اس سے دوام کو تعبیر کرتے ہیں اور یہ کوئی ظلم نہیں، کیونکہ کافر جب تک زندہ رہا کفر کا عزم کرتا رہا، لہٰذا اسے ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا کیا گیا یعنی دائمی جرم کی وجہ سے دائمی عذاب کا مزا چکھایا گیا، لہٰذا اس کا عذاب اس کے جرم کی پوری پوری سزاہے۔ یاد رکھیں کہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:غَیۡرَ مَجْذُوۡذٍ ﴿108﴾
ترجمۂ کنزالایمان:کبھی ختم نہ ہوگی۔(پ12، ھود:108)
کی وجہ سے اہلِ جنت کے معاملہ میں تقیید اور استثناء سے تمام علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اتفاق کے مطابق ظاہری معنی مراد نہیں کہ گذشتہ نظیر کی طرح اس میں تاویل کی جائے۔ بلکہ اس سے اہلِ اعراف(یعنی جنت اورجہنم کے درمیان والے ) اورگنہگار مؤمن مراد لئے جائیں گے جو بعد میں جنت میں داخل ہوں گے۔
حضرت سیدنا ابن زید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں :''اللہ عزوجل نے ہمیں اہلِ جنت کے لئے تو اپنے ارادے کی خبر اس فرمانِ عالیشان:عَطَآءً غَیۡرَ مَجْذُوۡذٍ ﴿108﴾
ترجمۂ کنز الایمان: یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی۔(پ12، ھود108) کے ذریعے دی ہے، جبکہ اہلِ جہنم کے بارے میں ہمیں اپنے ارادے کی خبر نہیں دی۔''
ایمان کی اہمیت اورمؤمن کی فضیلت
(48)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ،باعث نزول سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کعبہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا :''تُو خود اور تیری فضا کتنی اچھی ہے، تُو کتنی عظمت والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، اس ذات پا ک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد