ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں۔(پ 13، یوسف:111)
تنبیہ6:
مذکورہ بالا آیات واحادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں :''کافروں کو جہنم میں ملنے والا عذاب دائمی اور ابدی ہو گا اور اس مؤقف کے خلاف جو روایات آئی ہیں ان میں تاویل کرنا واجب ہے۔'' اس لئے کہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ ﴿۱۰۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان:وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بے شک تمہارا رب جب جو چاہے کرے۔0(پ12، ھود:107)
کا ظاہری معنی تو یہ ہے کہ کافروں کے عذاب کی مدت زمین وآسمان کی مدتِ بقاء کے مساوی ہے، مگر جنہیں اللہ عزوجل چاہے گا وہ اس مدت تک بھی جہنم میں نہ رہیں گے۔ مگر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بیس (20) وجوہات سے اس میں تاویل کی ہے، ان میں سے بعض کا تعلق زمین وآسمان کی مدت سے مقید کرنے کی حکمت سے ہے اور بعض کاتعلق استثناء کی حکمت سے ہے۔
پہلی صورت کے اعتبار سے اس کامعنی یہ ہے :''اس سے مراد جنت کے زمین وآسمان ہیں۔'' کیونکہ ہر وہ چیز جو تم سے بلند ہے وہ آسمان ہے اور ہر وہ چیز جس پر تم قرار پکڑتے ہو وہ زمین ہے اور اس اعتبار سے جنت کے زمین وآسمان کا وجود ایک قطعی اَمر ہے جوکہ کسی پر مخفی نہیں، لہٰذا اس بات کی یہ نظیر پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی اس طرح کہ اس آیت کو اس تاویل پر محمول کرنا ہی جائز نہیں کیونکہ یہ مخاطَب لوگوں کے نزدیک معروف نہیں ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔یا''اس سے دنیا کے زمین وآسمان مراد ہیں۔'' اور اسے عرب کی کسی چیز کے دوام اور ہمیشگی کے بارے میں خبر دینے کے مطابق بیان کیا گیاہے جیسا کہ عرب کہتے ہیں:'' لَااٰتِیْکَ مَادَامَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ یعنی میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا جب تک زمین وآسمان قائم ہیں، ''