ہے نہ کہ ان لوگوں کوجن پر رضا ہوتی ہے۔
''وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْن''کی تخصیص سے بھی شیخ ابن عربی کے قول کا انکار ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اگر فرعون کا ایمان درست ہوتا تو اس کے پچھلے گناہ اور اس کے پیروکاروں میں ڈالے گئے فساد کو مٹا دیا جاتا اور اس عظیم معافی کے بعد اسے عقاب، ملامت اور زجرو توبیخ کے ساتھ کیسے مخاطب کیا جاتا؟ ایسا صرف اس پر عذاب کی عظیم میخیں گاڑنے، اس کی پچھلی برائیاں یاد دلانے اوریہ بتانے کے لئے کیا گیا تھا کہ اس کی اپنی عادتوں نے اسے آخری وقت تک ایمان لانے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب اس کا ایمان لانا اسے نفع نہ دے گا۔ خصوصًا جب کہ وہ اللہ عزوجل کے رسول حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی تکذیب اور اللہ عزوجل کی آیتوں سے عناد رکھتا اور اس کی بارگاہ سے اعراض کرتا تھا۔
نیز ''بدن'' کی نجات کی تخصیص اس بات پر شاہد وعادل ہے کہ اس پر وہی اعتراض ہوتاہے جو کچھ مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ اس سے مقصود یہ تھا کہ لوگ فرعون کے خدائی دعویٰ کی وجہ سے اس کے غرق ہونے کی تصدیق نہ کرتے کیونکہ (عام تاثر یہی ہے کہ) اس جیسے لوگ (یعنی خدائی دعوے دار) نہیں مرتے، لہٰذا اسے ایک بلند ٹیلے پر اچھال دیا گیا اور اس کے جسم پر اس کی زرہ بھی موجود رہی تا کہ اسے پہچانا جا سکے۔
عرب لوگ زرہ پر بھی''بدن'' کا اطلاق کرتے ہیں، فرعون کی ایک زرہ تھی جس کے ذریعے اسے پہچانا جاتا تھا اورایک شاذ قرأ ت بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ لفظِ بدن کہہ کر زرہ مراد لی جاتی ہے جیسا کہ بِاَبْدَانِکَ بھی مروی ہے جس کا معنی ہے دُرُوْعِکَ، کیونکہ فرعون اکثر اپنی جان کے خوف سے زرہ پہنے رہتا تھا، یااس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بالکل برہنہ تھا اور اس پر ستر پوشی کے لئے کوئی چیز نہ تھی، یا پھر وہ روح سے خالی جسم تھا۔ مذکورہ قرأ ت بھی ان تمام معانی کے منافی نہیں کیونکہ اسکے بدن کے ہر عضو کو ایک علیحدہ بدن بنا دیا گیا اور ایک شاذ قراء ت میں اسے حاء کے ساتھ نُنْحِیْکَ بھی پڑھا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم تجھے سمندر کے کنارے پر پھینک دیں گے۔
مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :''اللہ عزوجل نے فرعون کو مرے ہوئے بیل کی طرح سمندر کے کنارے پر پھینک دیا تا کہ وہ باقی ماندہ بنی اسرائیل اور دیگر لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بن جائے اوران پر یہ بات واضح ہو جائے کہ جو شخص ظالم ہو اور اللہ عزوجل کی جناب میں تکبر کرتا ہو اس کی پکڑ اس طرح ہوتی ہے کہ اسے ذلت واہانت کی پستی میں پھینک دیا جاتاہے تا کہ لوگوں کو اس کے طریقہ سے ڈرایا جائے اور تمام قوموں کی اللہ عزوجل کی ظاہر وباہر قدرت کی طرف راہنمائی کی جائے، نیز حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لائے ہوئے دین کے معاملہ میں ان کی تصدیق کی جا سکے۔ پھر اللہ