اور جب یہ بات ثابت اور واضح ہوگئی کہ''مایوسی کے وقت کا ایمان درست نہیں۔'' تو یہ بھی ثابت ہو گیاکہ''فرعون کا ایمان درست نہیں۔''کیونکہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ''اگر ہم مایوس کے ایمان کو درست مان بھی لیں تب بھی مذکورہ آیت اس بات پردلالت کرتی ہے کہ فرعون کا ایمان، حضرت سیدنا موسیٰ و ھارون علیٰ نبینا و علیہما الصلوٰۃ والسلام پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے درست نہ تھا، جبکہ جادوگروں کا ایمان اس لئے درست تھا کہ وہ حضرت سیدنا موسیٰ وھارون علیٰ نبینا و علیہما الصلاۃ والسلام پر ایمان لے آئے تھے۔'' جو شخص قرآن پاک میں ان کے حکایت کردہ الفاظ میں غور وفکر کرے تو وہ ان دونوں کے ایمان کے فرق کو واضح طور پرجان لے گا، لہٰذا ان میں سے ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
امام ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول تو بڑا ہی عجیب ہے :''فرعون نے اپنے باطن کی ذلت ورسوائی دیکھی تو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں التجاء کی۔'' حالانکہ جب وہ رب العزت عزوجل کی ربوبیت ہی کا منکر تھا تو ذلت وفقرمیں سے اس کے باطن میں کونسی چیز تھی؟ اور وہ تو عقیدہ ہی یہ رکھتاتھا :''وہی معبودِ مطلق اور رب اکبر ہے۔'' اسی وجہ سے وہ موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو ایذاء دیتا اور ان کی تکذیب کے ساتھ ساتھ ان سے دشمنی بھی رکھتا تھا، وہ تو رسول کی دشمنی میں ابو جہل کی طرح تھا، اسی لئے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ابو جہل کو اس اُمت کا فرعون قرار دیا، اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ اس کا باطن ان دونوں (یعنی ذلت وفقر) پرتھا تو ایمان درست نہ ہونے کی وجہ سے اس آیتِ کریمہ: