Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
131 - 857
اور جب یہ بات ثابت اور واضح ہوگئی کہ''مایوسی کے وقت کا ایمان درست نہیں۔'' تو یہ بھی ثابت ہو گیاکہ''فرعون کا ایمان درست نہیں۔''کیونکہ ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ''اگر ہم مایوس کے ایمان کو درست مان بھی لیں تب بھی مذکورہ آیت اس بات پردلالت کرتی ہے کہ فرعون کا ایمان، حضرت سیدنا موسیٰ و ھارون علیٰ نبینا و علیہما الصلوٰۃ والسلام پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے درست نہ تھا، جبکہ جادوگروں کا ایمان اس لئے درست تھا کہ وہ حضرت سیدنا موسیٰ وھارون علیٰ نبینا و علیہما الصلاۃ والسلام پر ایمان لے آئے تھے۔'' جو شخص قرآن پاک میں ان کے حکایت کردہ الفاظ میں غور وفکر کرے تو وہ ان دونوں کے ایمان کے فرق کو واضح طور پرجان لے گا، لہٰذا ان میں سے ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

    امام ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول تو بڑا ہی عجیب ہے :''فرعون نے اپنے باطن کی ذلت ورسوائی دیکھی تو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں التجاء کی۔'' حالانکہ جب وہ رب العزت عزوجل کی ربوبیت ہی کا منکر تھا تو ذلت وفقرمیں سے اس کے باطن میں کونسی چیز تھی؟ اور وہ تو عقیدہ ہی یہ رکھتاتھا :''وہی معبودِ مطلق اور رب اکبر ہے۔'' اسی وجہ سے وہ موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو ایذاء دیتا اور ان کی تکذیب کے ساتھ ساتھ ان سے دشمنی بھی رکھتا تھا، وہ تو رسول کی دشمنی میں ابو جہل کی طرح تھا، اسی لئے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ابو جہل کو اس اُمت کا فرعون قرار دیا، اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ اس کا باطن ان دونوں (یعنی ذلت وفقر) پرتھا تو ایمان درست نہ ہونے کی وجہ سے اس آیتِ کریمہ:
آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾
ترجمۂ کنز الایمان:کیااب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔(پ11، یونس:91)

کو عتا ب پرمحمول کر لینے سے اسے ان دونوں کے مقابلہ میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ کیونکہ اگر اس کا اسلام اور ایمان درست ہوتاتو اس کی فضیلت کے لئے شیخ ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے مطابق مناسب یہی تھا کہ کہا جاتا:
'' آلْاٰنَ نُقْبِلُکَ وَ نُکْرِمُکَ
یعنی اب ہم تجھے قبول کریں گے اور عزت سے نوازیں گے۔'' کیونکہ اس کے ایمان کی درستگی کے لئے اللہ عزوجل کی اس پر رضا لازم تھی اور جسے اتنی بڑی رضا حاصل ہو جائے تو مقامِ فضل کی رعایت کرتے ہوئے اس کے صحیح ایمان کے جواب میں یہ الفاظ نہیں کہے جاتے کہ:
آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾
ترجمۂ کنز الایمان:کیااب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔(پ11، یونس:91)

کیونکہ تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھنے والا ہر باسلیقہ شخص جانتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعے اسی کو مخاطب کیا جاتا ہے جس پر غضب ہوتا
Flag Counter