Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
130 - 857
صرف غرق ہونا ہی تھا۔'' 

سوال:یہ ہے کہ علامہ ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ کلام صحیح ہے یا غلط؟ اگر صحیح نہیں ہے تواس کے رد کی وجہ بیان فرمائیے؟

جواب:یہ کلام صحیح نہیں، اگرچہ ہم اس کے قائل کی جلالت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر معصوم توصرف انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام (اور ملائکہ) ہی ہیں، سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ نے مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مزار پُرانوار کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا :''ان صاحبِ مزار( یعنی نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کے علاوہ ہرایک سے اس کے قول کے بارے میں مؤاخذہ ہو گا اور اس کا قول اس پر لوٹا دیا جائے گا۔'' 

    نیزبعض کتب میں امام ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود یہ بات نقل فرمائی ہے :'' ہامان وقارون کے ساتھ فرعون بھی جہنم میں ہے۔'' لہٰذا جب اما م کے کلام ہی میں اختلاف ہو گیا تو اب اسی کلام کو لیاجائے گا جو ظاہری دلائل کے مطابق ہو گا اور جو اس کے خلاف ہو گا اسے چھوڑ دیا جائے گا، بلکہ ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں کہ آیتِ مبارکہ اور ترمذی شریف کی صحیح حدیث، مایوسی کے وقت ایمان کے باطل ہونے پر صراحۃً دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا اس آیت مبارکہ:
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ
ترجمۂ کنز الایمان:توان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا۔(پ24، المؤمن :85)

میں اس تأویل :''اللہ عزوجل ہی نفع دینے والا ہے۔'' کی طرف توجہ ہی نہیں کی جائے گی۔ اس تأویل کے بطلان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قرآن وسنت کی اصطلاح میں اشیاء کی اضافت ان کے اسباب کی طرف کی جاتی ہے، لہٰذا جب یہ کہہ دیا گیا کہ ایمان نفع نہ دے گا، تو اس کاشرعی معنی یہی ہے کہ اس شخص پر یہ حکم لگا دیا گیا کہ اس کا ایمان باطل اور ناقابلِ اعتناء ہے۔ جب اللہ عزوجل ہی ہر وقت حقیقی نافع ہے، تو وقوعِ عذاب کی اس حالت میں جبکہ عذاب کا واقع ہونا لازم ہو جائے تواللہ عزوجل کے نافع ہونے کی تخصیص کرنے پر اس قائل کے پاس کیا دلیل ہے؟ اور اگر اللہ عزوجل اسے نفع دینا چاہتا تو عذاب کے ذریعے ان کی بیخ کنی کیوں کرتا؟

    اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانِ عالیشان:
وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿٪85﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے۔(پ24، المؤمن:85)

اس بات پر واضح دلیل ہے کہ:
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ
ترجمہ کنزالایمان:توان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا۔(پ24،المؤمن:85 )

سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ ایمان لانے کے باوجود کفر پر قائم ہیں،اس آیت کریمہ کے بارے میں ائمہ صحابہ وتابعین عظام علیہم الرضوان کی تفسیر اور ان کے بعد والوں کی صحیح اور اجماع کے مطابق (اس آیت کی ) تفسیر کا ہمارے مؤقف کے موافق ہو نا ہی کافی و وافی ہے۔
Flag Counter