| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
یعنی تا کہ نجات اس کی علامت ہو جائے کیونکہ جب اس نے وہی کہا جو میں نے اسے کہا تھا تو اس کی نجات بھی میری طرف سے ایسی ہی ہو گی جیسی تمہاری ہو گی، کیونکہ عذاب کا تعلق صرف ظاہر سے ہوتا ہے اور یقینا میں نے مخلوق کو اس کا عذاب سے نجات پانا دکھا دیا، لہٰذا غرق ہونا ابتدائی وقت میں عذاب تھا اور اس میں مرنا خالص شہادت تھی تا کہ کوئی بھی اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ،
اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ ﴿87﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔(پ13، یوسف :87) اور اعمال کادارومدار تو خاتمہ پر ہی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کایہ فرمانِ عالیشان:
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیاجب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔(پ24، المؤمن:85)
نہایت واضح ہے کہ حقیقی نفع دینے والا تو اللہ عزوجل ہی ہے لہٰذا انہیں اللہ عزوجل ہی نے نفع پہنچایا اوراللہ عزوجل کے اس فرمان:سُنَّتَ اللہِ الَّتِیۡ قَدْ خَلَتْ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا( پ24،المؤمن :85) سے مراد مایوسی کے وقت ایمان لانا ہی ہے، نیز فرعون کی روح قبض کر لی گئی اور حالتِ ایمان میں اس کی موت میں تاخیر اس وجہ سے نہیں کی گئی کہ کہیں وہ اپنے سابقہ دعوی پر نہ لوٹ آئے۔ اور اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
فَاَوْرَدَہُمُ النَّارَ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:تو انہیں دوزخ میں لااُتا رے گا۔(پ12، ھود:98) میں اس بات کی دلیل کہاں ہے کہ فرعون بھی ان لوگو ں کے ساتھ جہنم میں داخل ہو گا؟ بلکہ اللہ عزوجل نے تو ارشاد فرمایا:
اَدْخِلُوۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ
ترجمہ کنزالایمان:حکم ہوگا فرعون والوں کو داخل کرو۔(پ24، المؤمن:46)
یہ نہیں فرمایا :''اے فرعون! جہنم میں داخل ہو جا۔'' اللہ عزوجل کی رحمت اس بات سے بہت وسیع ہے کہ وہ مضطر کاایمان قبول نہ فرمائے اور فرعون کے غرق ہوتے وقت کے اضطرار سے بڑا اضطرار کونسا ہو سکتا ہے؟ چنانچہ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوۡٓءَ
ترجمۂ کنزالایمان:یاوہ جولاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے اور دور کر دیتا ہے برائی۔(پ20، النمل:62)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ عزوجل نے مضطر کی پکار کے ساتھ مقبولیت اور برائی ہٹا دینے کو ملا دیا، لہٰذا فرعون کا عذاب