| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
صورت میں اجماع منعقد نہ ہوسکے، تب بھی یہ اعتراض ہم پر وارد نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمارے بیان کردہ فرعون کے کفر پر منعقد اجماع میں خلل ڈالتا ہے، کیونکہ ہم اس کے ناامیدی کے عالم میں ایمان لانے کی وجہ سے اس پر کفر کاحکم نہیں لگاتے، بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وہ جس انداز میں اللہ عزوجل پر ایمان لایاتھا وہ درست نہ تھا اوراگربَرْ سَبِيْلِ تَنَزُّلْ ( یعنی اس کا اللہ عزوجل پر ايمان لانا درست مان بھی ليا جائے پھر بھی )وہ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اصلاً ایمان ہی نہ لایا تھا، لہٰذا صوفیاء کرام کی طرف منسوب یہ مذہب ہمارے مؤقف پر کوئی اعتراض وارد نہیں کرتا۔
اما م ، عارف ، محقق محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ''الفتوحات المکیۃ'' میں اضطرار کے وقت ایمان لانے کو صحیح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا :''فرعون مؤمن تھا۔'' (آئندہ آنے والے صفحات میں مصنف علیہ الرحمۃ اس کا ردکریں گے اورانہی کے حوالے سے یہ ثابت کریں گے کہ فرعون پکاکافرتھا)مزید فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ''جب فرعون اوراس کے لشکر کے درمیان غرق کی مصیبت حائل ہوئی تو اس نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں التجاء کی اور اپنے باطن کی ذلت ورسوائی کو دیکھ کرمشکل دور کرنے کے لئے عرض کیا:اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسْرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ
ترجمۂ کنز الایمان:میں ایمان لایاکہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ (پ11، یونس :90)
جیسا کہ جادوگروں نے ایمان لاتے وقت یہ بات:اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿121﴾ۙرَبِّ مُوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ ﴿122﴾
ترجمۂ کنز الایمان:ہم ایمان لائے جہان کے رب پر جو رب ہے موسیٰ اور ھارون کا۔(پ9، الاعراف :121، 122) شک وشبہ اور اشکال دور کرنے کے لئے کہی تھی، پھر فرعون نے
وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿90﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور میں مسلمان ہوں۔(پ11، یونس:90) کہاتو اللہ عزوجل نے عتاب کرتے ہوئے اس سے ارشاد فرمایا:
وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اورپہلے سے نافرمان رہا اور توفسادی تھا۔(پ11، یونس:91) یعنی یہ بات اب تجھ پر ظاہر ہوئی تونے پہلے اسے کیوں نہ جان لیا؟ پھر اس کی روح قبض کرنے سے پہلے اس سے ارشاد فرمایا:
فَالْیَوْمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً ؕ
ترجمۂ کنزا لایمان:آج ہم تیری لاش کو اترا دیں(یعنی باقی رکھیں ) گے کہ تو اپنے پچھلوں کیلئے نشانی ہو۔(پ11، یونس:92)