Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
127 - 857
جائے کہ فرعون اللہ عزوجل پر صحیح ایمان لے آیا تھا تب بھی حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے اس کا ایمان درست نہ ہو گا اور نہ ہی اس وقت اسے حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کا خیال آیا تھا لہٰذا اس کا ایمان مفید نہیں، کیا آپ نہیں جانتے کہ اگر کوئی کافر ہزارو ں مرتبہ
اَشْھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ یا اَشْھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَ بِہِ الْمُسْلِمُوْنَ
کہے تب بھی اس وقت تک مؤمن نہ ہو گا جب تک
وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ
نہ کہہ لے۔ 

وسوسہ:جادوگروں نے تو اللہ عزوجل پر ایمان لاتے وقت حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کا ذکر نہیں کیا مگر اس کے باوجود ان کا ایمان قبول کر لیا گیا؟

جواب:آپ کی بات درست نہیں کیونکہ انہوں نے حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کا تذکرہ اپنے اس قول :
اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿121﴾ۙرَبِّ مُوۡسٰی وَہٰرُوۡنَ ﴿122﴾
ترجمۂ کنز الایمان:ہم ایمان لائے جہان کے رب پر جو رب ہے موسیٰ اور ھارون کا۔ (پ9، الاعراف :121، 122)

میں کردیا تھا کیونکہ ان کا یہ ایمان لانا حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزے کی بنا پر ہوا تھا اور معجزہ یہ تھا کہ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عصا مبارک ان کی ایجاد کردہ بلاؤں کو کھا گیا تھا اور رسول کے معجزے پر ایمان لانے کے بعد اللہ عزوجل پر ایمان لانا دراصل رسول پر ایمان لانا ہی ہے۔ لہٰذا وہ لوگ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام پر صراحۃً ایمان لے آئے تھے جبکہ فرعون نہ تو صراحۃً ایمان لایا تھا اور نہ ہی اشارۃًبلکہ اس نے تو بنی اسرائیل کو یاد کیا تھا حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں حالانکہ حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ عزوجل کے سچے رسول اور اللہ عزوجل اور اس کی صفات کے عارف اور راہِ نجات کے راہنماتھے لہٰذا فرعون کے اس قول میں اپنے کفر پر قائم رہنے کی طرف اشارہ ہے۔ 

سوال:امام قاضی عبد الصمد حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تفسیر میں اس بات کی تصریح کی ہے :''صوفیاء کرام کا مذہب یہ ہے کہ ایمان لانا ہر صورت میں نفع بخش ہے، اگرچہ عذاب دیکھتے وقت ہی کیوں نہ ہو اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ مذہبِ قدیم ہے کیونکہ قاضی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متقدمین میں سے ہیں اور پانچویں صدی کے اوائل یعنی ۴۳۰؁ ہجری میں بقیدِحیات تھے۔ اور علامہ ذہبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :'' علماء ِمتقدمین ُومتأخرین رحمہم اللہ تعالیٰ میں تیسری صدی ہجری حدِ فاصل ہے۔'' جب صوفیاءِ کرام کایہ مذہب ہے تو اس کے برعکس فرعون کے کفر پر اجماع کیسے ہو گیا؟ 

جواب: اگر ہم مجتہدین اور قابلِ اعتماد صوفیاء ِکرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب اس قول کو صحیح تسلیم کر لیں تاکہ ان کی مخالفت کی
Flag Counter