Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
126 - 857
حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسْرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿90﴾
ترجمۂ کنزالا یمان:یہاں تک کہ جب اسے ڈوبنے نے آ لیا بولامیں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوا اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں۔ (پ11، یونس:90)

    اس کا اس وقت ایمان لانا اسے نفع نہ دے گا کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمانِ عالیشان کے فورًا بعد ارشاد فرمایا :
آٰلۡـٰٔنَ وَقَدْ عَصَیۡتَ قَبْلُ وَکُنۡتَ مِنَ الْمُفْسِدِیۡنَ ﴿91﴾
ترجمۂ کنز الایمان:کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔ (پ11، یونس:91)

    ایسے وقت ایمان کے مفید نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اور اپنی قوم پر آنے والے عذاب کودیکھ کر ایمان لایاتھا اور جیسا کہ بیان ہوا کہ اس وقت ایمان لانا نفع بخش نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ کہ اس کا ایمان لانا محض تقلید کے طور پر تھا جیسا کہ اس کے قول
اِلَّاالَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْاِسْرَاءِ یْلَ
سے ظاہر ہے گویا کہ اس نے اس بات کا اعتراف کیا:''میں اللہ عزوجل کو تو نہیں جانتا لیکن میں نے بنی اسرائیل سے سنا ہے کہ کائنات کا ایک خدا ہے، لہٰذامیں اس خدا پرایمان لایا جس کے بارے میں ،میں نے بنی اسرائیل سے سنا ہے اور وہ قوم اس کے وجود کا اقرار کرتی ہے۔''

    یہی تو تقلید محض ہے کیونکہ فرعون تو دہریہ اور صانع کے وجود کا منکر تھا اور ایسا گندا اور برائی کی انتہاء کو پہنچا ہوا اعتقا د، تقلید محض سے زائل نہیں ہوتا، بلکہ اسے زائل کرنے کیلئے دلیلِ قطعی کے بغیر چارہ نہیں اوراگر بالفرض دلیلِ قطعی کے بغیر بھی اسے درست مان لیاجائے تو پھر بھی دہريے اور اس جیسے سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کے مسلمان ہونے کے لئے اپنے کفریہ عقائد کے باطل ہونے کا اقرار کرنا بھی ضروری ہے۔ پھر اگر فرعون یہ کہتا:
'' اٰمَنْتُ بِالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَیْرُہ،
 یعنی میں اس ذات پر ایمان لایا جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔'' تب بھی وہ مسلمان نہ ہوتا کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں (کہ نزع کے عالم میں جب روح نرخرے تک پہنچ جائے یا عذاب نظر آنے لگے، ایسے وقت میں ایمان لانا مفید نہیں ہوتا) اور فرعون نے تو خالق کی نفی اوراپنی خدائی جیسے کفریہ عقائد کے بطلان کا اعتراف نہ کیا اوروہ یہ بھی نہ جانتا تھا کہ اس کے اپنے اس قول
اِلَّاالَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْاِسْرَاءِ یْلَ
سے اس نے کیاارادہ کیا ہے ؟    جب ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصریح کردی ہے کہ
اٰمَنْتُ بِالَّذِیْ لَآاِلٰہَ غَیْرُہ،
سے ایمان ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں دوسرے معنی کا احتمال بھی موجود ہے، لہٰذا فرعون کے اس قول سے بھی ایمان ثابت نہ ہوگا۔ اوراگر بالفرض یہ مان بھی لیں کہ اس قول سے ایمان ثابت ہو جاتا ہے، تب بھی اس قول سے فرعون کا مؤمن ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس بات پراجماع ہو چکا ہے کہ اللہ عزوجل کے رسول پر ایمان نہ ہونے کی صورت میں اللہ پرایمان لانا درست نہیں، لہٰذا اگر تسلیم کر بھی لیا
Flag Counter