Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
125 - 857
کی عزت افزائی فرمائی اسی طرح زندگی لوٹا کر اور ایمان لانے کا وقت گزرجانے کے بعد اس وقت کو لوٹا کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عزت افزائی فرمائی۔'' 

    یہ بات بعض دوسرے مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اس قول کے منافی بھی نہیں کہ''یہ آیت مبارکہ:
وَّلَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیۡمِ ﴿119﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہو گا۔(پ 1، البقرۃ:119)

خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والدینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی۔'' کیونکہ اس آیتِ مبارکہ کے سببِ نزول کے بارے میں کوئی روایت بھی صحیح نہیں ہے اور اگر ہم بالفرض اسے صحیح مان بھی لیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ''اے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی وجاہت نہ ہوتی تو یہ جہنمی تھے۔'' 

(44)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''میرا اور تیرا باپ جہنم میں ہے۔''
    (صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان ان من مات علی الکفر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۵۰۰،ص۷۱۶)
    اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات اللہ عزوجل کے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اس معاملہ کا علم عطا فرمانے سے پہلے بیان فرمائی یا پھر اس اعرابی کے اطمینانِ قلب اور ہدایت کے لئے ارشاد فرمائی تھی،لہٰذا جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس سے فرمایا :''تیرا باپ جہنم میں ہے۔'' تو اس کا رنگ بدل گیا تھا۔ قابلِ اعتمادعلماء ومجتہدینِ اُمت رحمہم اللہ تعالیٰ نے پہلی آیتِ مبارکہ یعنی:
فَلَمْ یَکُ یَنۡفَعُہُمْ اِیۡمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاۡسَنَا ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔''(پ: 24، المؤمن : 85)

سے فرعون کے کفر پر اجماع کا استدلال کیا ہے۔

(45)۔۔۔۔۔۔ سیدناامام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے(یعنی فرعون کے کافر ہونے کی روایت) سورۂ یونس کی تفسیر میں دو سندوں سے روایت کر کے فرمایا :''ان میں سے ایک سند حسن اور دوسری حسن غریب صحیح ہے۔'' 

(46)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا یحیی بن زکریا علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام کو ان کی ماں کے پیٹ میں مومن پیدا فرمایا اور فرعون کو اس کی ماں کے پیٹ میں کافر پیدا فرمایا۔''
     (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۵۴۳،ج۱۰،ص۲۲۴)
    اللہ عزوجل نے فرعون کے بارے میں سورہ یونس میں جو حکایت بیان فرمائی ہے :
Flag Counter