جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ہمارے مکی مدنی آقا، دوعالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے انتقال کے بعد دوبارہ زندگی عطا فرما کر مکرم فرمایا تا کہ وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر ایمان لے آئیں، جیسا کہ ایک حدیث پاک میں آیاہے جسے امام قرطبی اور ابن ناصر الدین حافظ الشام وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا اللہ عزوجل نے اپنے نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اکرام کی خاطر موت کے بعد خلافِ قاعدہ والدینِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، اور یہ ایک مسلمہ اُصول ہے کہ خصوصیات پر قیا س نہیں کیا جا سکتا۔ بعض محدثین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے والدینِ مصطفی ،احمدِ مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وعلیہما معہ کے زندہ کئے جانے والی حدیث میں اختلاف کیا اور اس پر طویل بحث کی ہے، میں نے اس کارد اپنے فتاویٰ میں کر دیا ہے۔
سیدناامام قرطبی اور ابن دحیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہما وغیرہ فرماتے ہیں :''اللہ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہٌ عن العُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فضائل اور خصوصیات میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال تک مسلسل اضافہ ہوتا رہا، یہ معاملہ (یعنی والدینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا زندہ ہو جانا) بھی انہیں فضائل و اعزازات میں سے ایک ہے جو اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو عطا فرمائے اور ان کا زندہ ہو جانا اور ایمان لے آنا عقلی ونقلی طور پر ممکن ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل کے مقتول کو قاتل کی نشاندہی کے لئے زندہ فرما دیا تھا اور حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے اور اللہ عزوجل نے اپنے حبیبِ لبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دستِ مبارک پر مُردوں کی ایک جماعت کو زندہ فرمایا، ایسی صورت میں والدینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے انتقال کے بعد نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی فضیلت اور اعزاز میں اضافہ کے لئے انہیں دوبارہ زندہ کرنے میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟ بے شک یہ بات بھی درجۂ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ اللہ عزوجل نے سورج کو غروب ہو جانے کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے لوٹا دیاتھا تاکہ حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم نمازِعصر ادا کر سکیں،تو جس طرح اللہ عزوجل نے سورج کو لوٹادینے اور گئے وقت کے لوٹ آنے سے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم