٭ ۔۔۔۔۔۔یا''اللہ عزوجل کے لئے اسلام لا یا۔''
٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''اللہ عزوجل میرا خالق ہے۔''
٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''اللہ عزوجل میرا رب ہے۔'' پھر رسالت کی گواہی بھی دے دے تو وہ مسلمان ہو جائے گا۔
٭ ۔۔۔۔۔۔ہر نو مسلم کو قیامت کے دن اٹھنے پرایمان لانے کاحکم دینا مستحب ہے اور اسلام کے آخرت میں نفع بخش ہونے کیلئے گذشتہ اُمور کے علاوہ اللہ عزوجل کی وحدانیت، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن کی دل سے تصدیق کرنا بھی شرط ہے ۔
٭ ۔۔۔۔۔۔اگر کوئی شخص دل سے ان باتوں کی تصدیق کر کے ان پر ایمان لے آیا مگر اس نے قدرت کے باوجود زبان سے شہادتین ادا نہ کیں تو وہ اپنے کفر پر قائم ہے اور ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کامستحق ہے جیسا کہ سیدنا اما م نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس بات پر اجماع نقل فرمایا ہے، لیکن اس پرایک اعتراض وارد ہوتاہے کہ اس معاملہ میں ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ کاایک قول یہ بھی ہے :''اس کا ایمان اسے نفع دے گا اور زیادہ سے زیادہ وہ ایک گنہگار مؤمن ہے۔''
٭ ۔۔۔۔۔۔اگر کوئی شخص اپنی زبان سے اللہ عزوجل کی وحدانیت اور نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کی گواہی دے اور دل سے ایمان نہ لائے تووہ آخرت میں بالاجماع کافر ہو گا جبکہ دنیا میں ظاہرًا اس پر مسلمانوں کے احکام جاری ہوں گے، لہٰذا اگروہ کسی مسلمان عورت سے نکاح کرے پھر دل سے ایمان لے آئے تو وہ عورت اس وقت تک اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک مسلمان ہونے کے بعد تجدید نکاح نہ کرے۔ ''