| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
٭ ۔۔۔۔۔۔شہادتین میں سے دوسری گواہی میں لفظ مُحَمَّدًا کو اَحْمَدَ ، اَبَا الْقَاسِمِ اور لفظ رَسُوْلُ کو نَبِیُّ سے تبدیل کردینا بھی جائز ہے جیسے (اَشْھَدُ اَنَّ )مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ کی جگہ اَحْمَدَ رَسُوْلُ اللہِ، اَبَا الْقَاسِمِ رَسُوْلُ اللہِ یا مُحَمَّدًا نَّبِیُّ اللہِ کہنا۔(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دائماً ابدًا)
نیز ان دونوں شہادتوں کو ترتیب سے ادا کرنا شرط ہے، لہٰذا اگرکسی نےاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ واَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہا تو وہ مسلمان نہ ہوگا مگرجبکہ انہیں پے در پے، لگاتار کہے تو مسلمان ہو جائے گا۔ یہ کلمات عربی میں پڑھنا ضروری نہیں بلکہ کسی نے اپنی مادری زبان میں اللہ عزوجل کے حقیقی ویکتا معبودہونے اور حضرت سیدنا محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رسول ہونے کی گواہی دے دی تب بھی وہ مسلمان ہو جائے گا مگر وہ شخص جوالفاظ ادا کر رہاہو اس کا ان لفظوں کو سمجھنا شرط ہے۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔جودافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت سے انکار کی وجہ سے کافر ہو اس کے مسلمان ہونے کے لئے یہ دونوں گواہیاں کافی ہیں۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔اور جو لوگ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کو عرب کے ساتھ مخصوص کرنے کی وجہ سے کافر ہوئے جیسے عیسائی وغیرہ تو ان کے مسلمان ہونے کے لئے یہ کہنا شرط ہے کہ
رَسُوْلُ اللہِ اِلٰی کَآفَّۃِ الْاِنْسِ وَالْجَآنِّ
یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تما م انسانوں اور جنات کی طرف اللہ عزوجل کے رسول ہیں۔ ٭ ۔۔۔۔۔۔نیزگونگے کااشارہ اس کے کلام کے قائم مقام ہے۔ اور جو الفاظ پیچھے بیان کئے جاچکے ہیں ان کے علا وہ کسی لفظ سے اسلام ثابت نہ ہوگا جیسے کوئی شخص صرف یہ کہے :'' میں ایمان لایا۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''میں اس پر ایمان لایا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''میں مسلمان ہوں۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''میں امت محمدی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں سے ہوں۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''میں حضرت محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے محبت کرتا ہوں۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''میں مسلمانوں میں سے ہوں۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''مسلمانوں کی طرح ہوں۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔یا ''مسلمانوں کا دین حق ہے۔'' ٭ ۔۔۔۔۔۔جبکہ کوئی ایسا شخص جسے کسی چیز کی پہچان نہ ہو اگر وہ یہ کہہ دے :''میں اللہ عزوجل پر ایمان لایا۔''