Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
121 - 857
دیں تو یہ مناسب ہے ورنہ تفویض یعنی اس کی تعیین کے علم کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دینا ہی مناسب ہے۔'' جو شخص آیات واحادیث میں غور وفکر کرے تو وہ انہیں اسی تأویل کی گواہی دیتے ہوئے پائے گا کیونکہ تأویل کے بغیر ان آیات واحادیث کا ظاہری مفہوم تناقض کاوہم پیدا کرتا ہے۔'' لہٰذا اس وہم سے بچنے کیلئے تأویل کی طرف جانا واجب ہے، کیا آپ اللہ عزوجل کے ان فرامین مبارکہ کو نہیں دیکھتے:
(1) ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ۟
ترجمۂ کنز الایمان:پھر عرش پراستوا ء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے (پ 8، الاعراف:54)

(۲)حالانکہ اللہ عزوجل نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ،
وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیۡہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیۡدِ ﴿16﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں۔(پ26، ق:16)
(3)  وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمْ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں ہو۔  (پ27، الحدید:4)

    حدیث پاک میں ہے کہ اگر تم ڈول کو رسی سے کنوئیں میں لٹکا دو تووہاں بھی اللہ عزوجل اپنے علم وقدرت سے موجود ہے ۔(کيونکہ اللہ عزوجل اپنے علم وقدرت سے ہر چيز کو گھيرے ہوئے ہے ) 

    ان آیات واحادیث بلکہ ان جیسی تمام روایات میں سے ہر ایک میں تاویل کرنا واجب ہے کیونکہ کسی کے لئے ان نصوص کے ظاہری معنی کا قائل ہونا ممکن نہیں لہٰذا جب ان میں سے بعض میں تاویل کرنا ثابت ہوگا تو سب میں تاویل کرنا واجب ہو گا، کیونکہ خَلَفْ اس معاملہ میں تنہا نہیں بلکہ سَلَفْ کی ایک جماعت جیسے سیدنا امام مالک وجعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ نے بھی ان آیات میں تاویل کی ہے۔ 

    الغرض !اہلِ حق کا اس مسئلہ میں وہی مذہب ہے جسے میں نے بیان کر دیا ہے اور ہر ایک پراسی کے مطابق عقیدہ رکھنا واجب ہے اور آدمی کو یہ اعتقاد اس وقت حاصل ہو گا جب وہ اللہ عزوجل کو ہر صریح یا التزامی عیب سے پاک مانے گا بلکہ ہر اس چیز سے بھی پاک مانے جس میں کوئی نقص تو نہ ہو مگر کمال بھی نہ ہو

٭ ۔۔۔۔۔۔اور اس بات کا عقیدہ رکھنا بھی واجب ہے کہ اللہ عزوجل اپنی ذات ، ارادے ، صفات ، اسماء اور تمام افعا ل میں کمال کے سب سے اعلیٰ درجے کے ساتھ متصف ہے۔
Flag Counter