Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
120 - 857
تنبیہ4:
    اصلی کافر یامرتد کا اسلام اس وقت ثابت ہو گا جب وہ زبان سے شہادتین یعنی اللہ عزوجل کی وحدانیت اور نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی رسالت کا اقرار کریگا اگرچہ ان میں سے ایک شہادت کااقرار وہ پہلے ہی سے کرتاہو اور اگر اس نے
اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
(یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں) سے ''اِلٰہَ''کے لفظ کو
بَارِیئَ،رَحْمٰنَ،مٰلِکَ،یارَزَّاقَ
سے بدل دیا تب بھی جائز ہے۔ اسی طرح اگر لَا کومَامِنْ سے بدل دیا مثلاً
مَامِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللہُ
(یعنی اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں) کہا یا لفظ اِلَّا کو غَیْرَ، سِویٰ یا عَدَا سے بدل دیا مثلاً کہا
لَااِلٰہَ غَیْرُ اللہِ، سِوَی اللہِ، عَدَااللہِ
(یعنی اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں)، یا پھر اسم جلالت ''اللہُ'' کو
الْمُحْیِی الْمُمِیْتُ
سے بدل دیا جو کہ غیر طبعی ہے یا
الرَّحْمٰنُ، الْبَارِیئُ
سے بدل دیا مثلاً کہا :
''لَا اِلٰہَ اِلَّا الْمُحْیِی الْمُمِیْتُ
(یعنی زندگی اور موت عطا کرنے والی ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں)،
 لَا اِلٰہَ اِلَّا الرَّحْمٰنُ
(یعنی رحمن عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں) وغیرہ یا
لَا اِلٰہَ اِلَّا مَنْ اٰۤمَنَ بِہِ الْمُسْلِمُوْنَ
(یعنی جس ذات پر مسلمانوں کاایمان ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) کہایا کہاکہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا مَنْ فِی السَّمَآءِ
(یعنی اس ذات کے علا وہ کوئی معبود نہیں جو آسمانوں میں ہے) یا
لَا اِلٰہَ اِلَّا الْمٰلِکُ
(یعنی مالک عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں) کہایا
لَا اِلٰہَ اِلَّا الرَّزَّاقُ
(یعنی رزاق عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں) کہاتو یہ سب صورتیں جائز ہیں اور اگر
لَا اِلٰہَ اِلَّا سَاکِنُ السَّمَآءِ
(یعنی وہ ذات جو آسمانوں میں رہنے والی ہے کے سوا کوئی معبود نہیں) کہاتو جائز نہیں۔ 

    اللہ عزوجل کو سَاکِنُ السَّمَآءِ اور مَنْ فِی السَّمَآءِ کہنے میں فرق یہ ہے کہ سَاکِنُ السَّمَآءِ کہنا ایک جہت ہے اور جہت اللہ عزوجل کے لئے محال ہے اور اللہ عزوجل اس سے اورظالموں ومنکروں کے بہتانوں سے بہت بلند ہے، بہت سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ عزوجل کے لئے جہت ثابت کرنا کفر ہے، لہٰذا جو کلمات کفر پر مشتمل ہوں ان سے اسلام کا ثبوت کیسے ہو سکتا ہے؟ جب کہ مَنْ فِی السَّمَآءِ کہنے میں اللہ عزوجل کے لئے جہت کی تصریح نہیں کیونکہ مَنْ فِی السَّمَآءِ سے مراد یہ ہے :''اس کاحکم اور سلطنت آسمانوں میں قائم ہے۔'' کیونکہ یہ لفظ ان قرآنی آیات کے موافق ہے جو سَلَف وخَلَف کے نزدیک مؤوَّل ہیں۔( اس میں حنابلہ کے ایک گمراہ فرقہ کے علا وہ کسی کو کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے )جبکہ ان دونوں کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے :''ہم اس تأویل کو معین کرتے ہیں اور ظاہر کواس کی طرف نہیں پھیرتے۔'' یہ خَلَف کا مذہب ہے یا ''اجمالی تأویل کرتے ہیں اور کسی شے کومعین نہیں کرتے بلکہ ہم اسے معین کرنے کا علم اللہ عزوجل پر چھوڑتے ہیں۔'' اور یہی سَلَف کا مذہب ہے، بعض متاخرین ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے بھی اسے اختیار کیا ہے اور بعض نے اس میں تھوڑی سی زیادتی کے ساتھ اس کو اختیار کیا ہے اور وہ یہ ہے :''تأویل کو اس طرح معین کرنا کہ وہ ظاہر کے قریب ہو جائے اور عربی لغت کے قواعد بھی اس کی درستگی پر گواہی
Flag Counter