ترجمہ کنزالایمان:بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔(پ 24، الزمر: 53)
جنہوں نے یہ بات کہی ہے :''قاتل کی توبہ مقبول نہیں۔'' تو اس سے ان کی مراد قتل سے باز رکھنا اور نفرت دلانا ہے، ورنہ قرآن وسنت کی نصوص اس معاملہ میں بالکل صریح ہیں :''جس طرح کافر کی توبہ مقبول ہے اسی طرح قاتل کی توبہ بھی مقبول ہے بلکہ قاتل کی توبہ تو بدرجۂ اَوْلیٰ مقبول ہے۔''
ان کاعقیدہ یہ ہے :''جس طرح کافر کو کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی اسی طرح مومن کو کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا۔''
یہ بھی ان(بد مذہبوں) کے اللہ عزوجل پر باندھے جانے والے بہتانوں میں سے ہے۔ لہٰذا ہرمسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے :''گناہ گار مؤمنین کی ایک جماعت جہنم میں داخل ہو گی۔'' کیونکہ اس کا انکار کفر ہے اس لئے کہ یہ انکار ان صریح نصوصِ قطعیہ کو جھٹلانا ہے جو اس بات پر دلا لت کرتی ہیں۔
امام الحرمین علیہ رحمۃ الرحمن نے اُصولیوں سے ان کایہ اصول ذکر کرنے کے بعد اسی کو برقرار رکھا :''جس نے کلمۂ کفر بکا اور یہ گمان کیا کہ وہ توریہ(یعنی جو بات دل ميں ہو اس کے خلاف ظاہر کرنا) کر رہا ہے تو وہ ظاہرًایاباطنا ً دونوں طرح سے کافر ہے، اور جسے وسوسہ آیا اور وہ ایمان یاصانع کے بارے میں متردد ہوا یا اس کے دل میں ان کے ناقص ہونے یا انہیں گالی دینے کا خیال آیا اور وہ ان وسوسوں کو شدید ناپسند کرتا ہو مگر انہیں دور کرنے پر قادر نہ ہو تو اس پر کوئی گناہ یا حرج نہیں بلکہ یہ وسوسے شیطا ن کی طرف سے ہیں، لہٰذااس بندے کو چاہے کہ وہ انہیں دور کرنے کے لئے اللہ عزوجل سے مدد طلب کرے کیونکہ اگر یہ وسوسے اس بندے ہی کی جانب سے ہوتے تو وہ انہیں ہر گزناپسند نہ کرتا۔'' علامہ ابنِ عبدالسلام وغیرہ نے بھی اس اصول و قاعدہ کا تذکرہ کیا ہے۔