| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ اہلسنت وجماعت کا یہ عقیدہ بالکل حق ہے کہ''فاسق مؤمن کی میت مشیّت کے تابع ہے، اگر اللہ عزوجل چاہے تو اسے اپنی مشیت کے مطابق عذاب دے گا اور پھر بالآخر اسے معاف فرما کر جہنم سے نکال دے گا، اس وقت وہ جہنم میں جلنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکا ہو گا، پھروہ بندہ نہرِ حیات میں غوطہ لگائے گا تو اسے ایک عظیم حسن وجمال اور تازگی حاصل ہو گی پھر اللہ عزوجل اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس نے اس بندے کے سابقہ ایمان اور اس کے اعمال صالحہ کے مطابق اس کے لئے جو انعامات تیار کئے ہوں گے وہ اسے عطا فرمائے گا جیسا کہ یہ بات بخاری وغیرہ کی صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اگر اللہ عزوجل چاہے تو اس بندے کو ابتداءًً ہی معاف فرما کر اس پرنرمی فرمائے اور اس کے مخالفین کو اس سے راضی فرما دے اور پھر نجات پانے والو ں کے ساتھ اسے بھی جنت میں داخل فرما دے۔''
خوارج کاعقیدہ:
خوارج کایہ عقیدہ ہے :'' گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے۔''
معتزلہ کاعقیدہ:
معتزلہ کا عقیدہ یہ ہے :''مرتکب کبیرہ حتمی طور پر ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا اور اسے معاف کرنا جائز نہیں جیسا کہ مطیع کو عذاب دینا جائز نہیں۔''
خوارج ومعتزلہ کا رد:
یہ ان لوگو ں کے اللہ عزوجل پر لگائے گئے جھوٹے الزامات میں سے ہے، جبکہ اللہ عزوجل منکروں اورظالموں کے ان باطل اقوال وعقائد سے بلند وبالا ہے۔ اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانِ عالیشان کہ:
وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿93﴾
ترجمہ کنزالایمان: اورجوکوئی مسلمان کو جان بوجھ کرقتل کرے تواس کابدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اوراللہ نے اس پر غضب کیااور اس پرلعنت کی اوراسکے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔(پ5، النساء:93)
یاتو مؤمن کے قتل کو حلا ل سمجھنے والے پر محمول ہے کیونکہ مومن کے قتل کو حلال سمجھنا کفر ہے، تو اس صورت میں خلود سے مراد تأبید یعنی ہمیشگی ہے جیسا کہ دیگر کفار وغیرہ پر ہے، نصوصِ شرعیہ اور لغت اس بات پر گواہ ہیں کہ خلود تأبید کو مستلزم نہیں یعنی خلود کا مطلب