Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
116 - 857
 (32)۔۔۔۔۔۔ سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب آدمی اپنے بھائی کو ''اے کافر'' کہہ کر پکارے تو گویا اس نے اسے قتل کر دیا اور مؤمن پر لعنت بھیجنا بھی اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔''
 (المعجم الکبیر،الحدیث:۴۶۳،ج۱۸،ص۱۹۴)
 (33)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جومسلمان کسی مسلمان کی تکفیر کرتا ہے تو اگر وہ واقعی کافر ہے (تب تو ٹھیک ہے)ورنہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے۔''
 (سنن ابی داؤد، کتاب السنۃ ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ،الحدیث:۴۶۸۷،ص۱۵۶۷)
 (34)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے کہا :''میں اسلام سے بیزار ہوں۔'' تو اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہااور اگر سچا ہے تو بھی سلامتی کے ساتھ اسلام میں نہ لوٹ سکے گا۔'
(صحیح ابن ماجہ،کتاب الکفارات، باب من حلف بملۃ غیر الاسلام،الحدیث:۲۱۰۰،ص۲۶۰۳)
(35)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب کسی نے اپنے بھائی کو ''اے کافر'' کہہ کر پکارا توان دونوں میں سے ایک شخص کافر ہو جاتا ہے۔''
 (صحیح البخاری، کتاب الادب،باب من اکفراخاہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۱۰۳،ص۵۱۵)
(36)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنے والوں سے رک جاؤ، کسی گناہ کی وجہ سے انہیں کافر نہ کہو کیونکہ جو لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ پڑھنے والو ں کی تکفیر کریگا وہی کفر سے زیادہ قریب ہو گا۔''
    (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۳۰۸۹،ج۱۲،ص۲۱۱)
 (37)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، مُحسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہہ کر پکارتا ہے تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے، اگر ایسا ہی تھا جیسا اس نے کہا (تو درست ہے) ورنہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا۔''
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب حال ایمان من قال لاخیہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۱۶،ص۶۹۰)
 (38)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب بھی کوئی شخص کسی کو کافر کہتا ہے توان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے۔''
( صحیح ابن حبان،کتاب الایمان،فصل۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۴۸،ج۱،ص۲۳۴)
 (39)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطَّر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل جب بھی آسمان سے کوئی برکت نازل فرماتا ہے تو لوگوں کا ایک گروہ اس کے سبب کفر کر بیٹھتا ہے، اللہ عزوجل بارش نازل فرماتا ہے تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں فلا ں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی۔''
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان کفر من قال مطرنا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۳۳،ص۶۹۲،بدون ''مطرنا'')
Flag Counter