Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
115 - 857
٭۔۔۔۔۔۔ کسی سے کہا :''مخفی عمل کے حصول کے لئے ظاہری عبادات چھوڑ دے۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''گانا سننا دین میں سے ہے ۔''

٭۔۔۔۔۔۔''گانا دلوں میں قرآن سے زیادہ اثر کرتا ہے۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''بندہ اللہ عزوجل کا وصال عبادت کے بغیر بھی حاصل کر لیتا ہے۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''روح اللہ عزوجل کا نور ہے لہٰذا نور جب نور کے ساتھ ملتاہے تو ایک ہو جاتا ہے۔'' یہ تمام صورتیں کفر ہیں۔ 

    ان کے علا وہ بہت سی فروع رہ گئیں جنہیں میں نے تفصیلی کلام کے ساتھ گذشتہ بیان کردہ قیودات، اختلاف وبحث اور مذاہبِ اربعہ کے نزدیک تمام اقوال کو جمع کر دیا ہے بلکہ ہر اس بات کو جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ کفر ہے اگرچہ وہ ضعیف قول کے مطا بق ہی کیوں نہ ہو اپنی کتاب ''اَلْاِعْلَامُ بِمَا یَقْطَعُ الْاِسْلَامَ'' میں جمع کردیا ہے کوئی طالب علم اس کتاب سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔ 

    گذشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے کہ جس نے اپنے مسلمان بھائی کو ''اے کافر'' کہہ کر پکارا تو شرط پائے جانے یعنی مخاطب کے کافر نہ ہونے کی صورت میں کہنے والا کافر ہو جائے گا اور اسی طرح جس نے کہاکہ ''فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں بارش حاصل ہوئی۔'' تو اگر یہ ارادہ کیا کہ فلا ں ستا رے کوتاثیر کی قوت حاصل ہے تو یہ کہنے والا کافر ہے ۔چنانچہ، 

(29)۔۔۔۔۔۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی جب اپنے بھائی سے کہتاہے :''اے کافر!'' تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے اگر جسے کافر کہا گیا وہ کافر تھا (تو ٹھیک) ورنہ کفراس کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا۔''
  (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال الاکمال،الحدیث:۸۲۷۵،ج۳،ص۲۵۴)
 (30)۔۔۔۔۔۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو آدمی کسی شخص کے کافر ہونے کی گواہی دیتاہے تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے اگر وہ شخص جسے کافر کہا گیا، واقعی اس کے کہنے کے مطابق کافر تھا تو صحیح ہے اور اگر وہ کافرنہ تھا تو اسے کافر کہنے کی وجہ سے کہنے والا خود کافر ہو جائے گا۔''
(المرجع السابق، الحدیث:۸۲۷۶)
 (31)۔۔۔۔۔۔ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''دومسلمانوں کے درمیان اللہ عزوجل کی جانب سے ایک پردہ ہے لہٰذا جب ان میں سے کوئی ایک اپنے دوست سے کہتا ہے کہ مجھ سے جدا ہو جا تو وہ اللہ عزوجل کے اس پردے کو پھاڑ دیتا ہے اور جب اسے ''اے کافر'' کہتاہے تو ا ن دونوں میں سے ایک شخص کافر ہو جاتا ہے۔''
 (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۵۴۴،ج۱۰،ص۲۲۴)
Flag Counter