Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
114 - 857
٭۔۔۔۔۔۔کسی نے جھوٹ بول کر کہا،''اللہ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے۔'' تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے اللہ عزوجل کی طرف جہالت کو منسوب کیا۔ 

٭۔۔۔۔۔۔کسی نے کہا: ''قرآن کریم، نماز یا ذکر یا ایسی ہی کسی عبادت سے میرا دل بھر گیاہے۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔یا کہا: ''محشر کیا ہے؟، جہنم کیا ہے؟'' 

٭۔۔۔۔۔۔یا گناہ کرکے کہا :''میں نے کیا کیا ہے؟'' 

٭۔۔۔۔۔۔کسی کو علم کی مجلس میں حاضر ہونے کی دعوت دی گئی تو اس نے کہا :''علم کی مجلس میں آ کر کیاکروں گا۔''ان سب صورتوں میں اگر استخفا ف کی نیت تھی تو کہنے والا کافر ہے۔ 

٭۔۔۔۔۔۔کسی نے کہا :''اللہ عزوجل ہر عالِم پر لعنت فرمائے۔'' تو اگر استغراق کی نیت نہ تھی تو کفر کے لئے استخفاف کی نیت شرط ہے اور اگر استغراق کی نیت تھی تو استخفاف کی نیت نہ بھی ہو تب بھی کافر ہے کیونکہ اس صورت میں انبیاء وملائکہ بھی اس کی زدمیں آجائیں گے۔ 

٭۔۔۔۔۔۔کسی عالِم کا فتویٰ پھینک دیا۔ 

    نیز اس طرح کہنے سے بھی کافر ہوجائے گا:

٭۔۔۔۔۔۔''یہ شریعت کیا چیز ہے؟'' تو اگر استخفاف کی نیت تھی تو کہنے والا کافر ہے۔ 

٭۔۔۔۔۔۔ کسی فقیہ کے بارے میں کہا :''یہ وہی چیز ہے۔'' اگر علم کے استخفا ف کی نیت تھی تو کفر ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔''روح قدیم ہے۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''جب ربوبیت ظاہر ہوگئی تو بندگی مٹ گئی۔'' اور اس سے مراد یہ لیاکہ شریعت کے احکام اٹھ گئے۔ 

٭۔۔۔۔۔۔''میں اپنی ناسوتی یعنی بشری صفات سے لاھوتی (یعنی الہی صفات) میں فنا ہو گیا ہوں۔ 

٭۔۔۔۔۔۔''میری صفات صفاتِ حق میں بدل گئی ہیں۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''میں اللہ عزوجل کو دنیا میں عیاں دیکھتا ہوں۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''میں اللہ عزوجل سے آمنے سامنے کلام کرتا ہوں۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''اللہ عزوجل ایک حسین صورت میں حلول کر گیا ہے۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔''اس نے مجھ سے شرع کی تکلیف ساقط کر دی ہے۔''