٭۔۔۔۔۔۔یا استخفاف وعناد کے طور پر کہے :''اگر مجھے جنت عطا فرمادی تب بھی میں اس میں داخل نہ ہوں گا۔''
٭۔۔۔۔۔۔یایہ کہنا :''اگر اللہ عزوجل نے میرے مرض یا تنگدستی کے باوجود نماز نہ پڑھنے پر میری پکڑ فرمائی تو اس نے مجھ پرظلم کیا۔''
٭۔۔۔۔۔۔اسی طرح اگر کسی مظلوم نے ظالم سے یہ کہا :''کیا یہ ظلم اللہ عزوجل کی تقدیر سے ہے۔'' تو ظالم نے جواب دیا کہ ''میں اللہ عزوجل کی تقدیر کے بغیر یہ کام کرتا ہوں۔''تو ظالم کافر ہوجائے گا۔
٭۔۔۔۔۔۔یا یہ کہنا :''اگر کوئی فرشتہ یانبی بھی میرے پاس آ جائے تب بھی میں اس کی تصدیق نہ کروں گا۔''
٭۔۔۔۔۔۔یا یہ کہنا :''اگر فلاں شخص نبی بھی ہوتا تو میں اس پر ایمان نہ لاتا۔''
٭۔۔۔۔۔۔یا یہ کہنا :'' نبی نے جو کہاہے اگر وہ سچ ہے تو ہم نجات پا جائیں گے۔''
٭۔۔۔۔۔۔یا ان پرجھوٹ کا الزام لگایا تویہ بھی کفر ہے کیونکہ اس میں مرتبۂ نبوت کی تنقیص ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔یا اسے کہاگیا :''اپنے ناخن کاٹ لوکہ یہ سنت ہے۔'' تو اس نے استہزاء کے طور پرکہا :''میں ایسا نہیں کروں گا اگرچہ یہ سنت ہے۔''
٭۔۔۔۔۔۔یا یہ کہے :''لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ پڑھنے سے بھوک نہیں مٹتی۔''
٭۔۔۔۔۔۔اسی طرح دیگر اذکار کے بارے میں یہ جملہ کہنے کا بھی یہی حکم ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔یا( اذان کے کلمات کے بارے میں اس طرح )کہنا :''مؤذن جھوٹ بولتا ہے ۔''
٭۔۔۔۔۔۔یا کہے :''مؤذن کی آواز گھنٹے کی آواز جیسی ہے۔'' او راس قول کے ذریعے کفر کے ناقوس سے تشبیہ کا ارادہ کرے یا اذان کے استخفاف کی نیت کرے ۔
٭۔۔۔۔۔۔اسی طرح بطوراستہزاء کسی حرام چیزپر اللہ عزوجل کا نا م لے جیسے شراب پیتے وقت بسم اللہ پڑھے ۔
٭۔۔۔۔۔۔یا استہزاء کے طور پر کہے :''میں محشر یا قیامت سے نہیں ڈرتا۔''
٭۔۔۔۔۔۔یہ کہنا :''اللہ عزوجل بھی چور کو تلاش نہیں کر سکتا۔'' تو چونکہ اس نے عجز کو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کیالہٰذا یہ کفر ہے ۔
٭۔۔۔۔۔۔یا علماء، واعظین اورمعلِّمین کو حقیر جانتے ہوئے ان کا بھیس بدل کر کسی جماعت کے پاس آیا تا کہ وہ اس پر ہنسیں یا کھیل کود کریں ۔
٭۔۔۔۔۔۔یا علم کو ہلکا جانتے ہو ئے کہنا :''ثرید کا پیالہ علم سے بہتر ہے۔''
٭۔۔۔۔۔۔کسی شخص کا مرض شدت پکڑ گیا یا بیٹا مرگیا تو وہ کہے :''یا رب عزوجل! اگر تو چاہے تو مجھے کافر بناکرمار یا مسلمان بنا کر۔''