Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
111 - 857
٭۔۔۔۔۔۔ان کی برائی کے طور پر ان کی جانب کوئی ایسی بات منسوب کرے جو ان کی شان کے لائق نہ ہو ،

٭۔۔۔۔۔۔ ان کی کسی بات کو ناقص، ہذیان اور جھوٹ کہہ کران کی توہین کرے ،

٭۔۔۔۔۔۔یاایسی بات کہے جس میں ان کی کسی آزمائش یا ان کے بعض جائز عوارضِ بشریہ کو حقیر جاننا پایا جائے تویہ سب صورتیں بالاجماع کفر ہیں اور ان کے قائل کوقتل کیا جائے گا اوراکثر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ 

    حضرت سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا تھا جس نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے'' تمہارا صاحب'' کہا تھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کے اس کلمہ کو مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی توہین قرار دیتے ہوئے اسے قتل کردیا۔ 

٭۔۔۔۔۔۔اسی طرح کفر پر راضی ہونا اگرچہ ضمناً ہی کیوں نہ ہو جیسے کوئی کافر کسی مسلمان سے اپنے اسلام لانے کے بارے میں مشورہ چاہے یا نہ چاہے اور وہ مسلمان اسے یہ کہے :''مسلمان مت ہونا۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔یا کا فرنے اس سے کہا کہ مجھے کلمہ پڑھا دو تو اس نے کلمہ پڑھانے میں تاخیر کی، مثلاً خطیب نے کہا :''صبر کرو میں خطبہ سے فارغ ہو جاؤں پھر کلمہ پڑھاؤں گا۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔بددعا میں یہ معاملہ نہیں جیسے کسی کو بددعا دی کہ اللہ عزوجل اسے ایمان نصیب نہ فرمائے ،

٭۔۔۔۔۔۔یا اللہ عزوجل اسے کفر پر قائم رکھے ،

٭۔۔۔۔۔۔یا اللہ عزوجل فلاں مسلمان کا ایمان چھین لے جبکہ ان صورتو ں میں اس پر سختی کا ارادہ ہو۔

٭۔۔۔۔۔۔اسی طرح کسی مسلمان کے لئے کفر کا سوال کرنا بھی کفر ہے کیونکہ یہ کفر پر راضی ہونا ہے۔ 

٭۔۔۔۔۔۔اسی طرح کسی مسلمان کو بغیر تاویل کے کافر کہہ کر پکارنے سے قائل خود کافر ہو جائے گا کیونکہ اس نے اسلام کو کفر کہا۔ ٭۔۔۔۔۔۔یا اللہ عزوجل کے کسی اسم یا اس کے کسی نبی کے نام کا مذاق اُڑانا مثلا ًاس کی تصغیر کرنا ۔

٭۔۔۔۔۔۔یاان کے کسی امرو نہی، وعدہ یا وعید کا مذاق اڑانا جیسے کوئی کہے :''اگر اللہ عزوجل بھی مجھے فلا ں کام کرنے کا حکم دے تب بھی میں اسے نہیں کروں گا۔'' 

٭۔۔۔۔۔۔یا کہے ''اگر فلاں جگہ کو قبلہ بنا دیا جائے تو میں اس کی طرف رُخ کر کے نماز نہیں پڑھوں گا۔''