وسلَّم کو ایسے وصف سے موصوف کرنا جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں نہ ہو آپ کی تکذیب کے مترادف ہے۔
اس سے یہ قاعدہ ثابت ہوتا ہے :''ہروہ وصف جس کے دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے ثبوت پرامت کا اجماع ہو اس کا انکار کفر ہے۔'' جیسے
٭۔۔۔۔۔۔کوئی بدبخت خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد کسی نبی کے مبعوث ہونے کو جائز مانے۔
یا اس طرح کے کلمات کہے :
٭۔۔۔۔۔۔'' میں نہیں جانتا کہ یہ نبی وہی ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ میں پردہ فرما گئے یا کوئی اور ہیں۔''
٭۔۔۔۔۔۔''نبوت کسبی ہے۔''
٭۔۔۔۔۔۔''دل کی صفائی سے نبوت کے مرتبہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔''
٭۔۔۔۔۔۔''ولی نبی سے افضل ہوتا ہے۔''
٭۔۔۔۔۔۔''میری طرف وحی آتی ہے۔'' اگرچہ وہ نبوت کادعوی نہ بھی کرے۔''
٭۔۔۔۔۔۔''میں مرنے سے پہلے جنت میں داخل ہوجاؤں گا۔''
٭۔۔۔۔۔۔یاکوئی بدبخت شخص اللہکے محبوب، مُنَزَّہ عن العُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذاتِ ستودہ صفات میں یا کسی دوسرے نبی بلکہ فرشتوں میں بھی کوئی عیب تلاش کرے۔
مثال کے طور پر:
٭۔۔۔۔۔۔اُن پر لعنت بھیجے ۔۔۔۔۔۔یا گالی دے۔۔۔۔۔۔ یاا ن کو حقیر جانے ،
٭۔۔۔۔۔۔ ان کا یاان کے کسی فعل کا مذاق اڑائے جیسے انگلیاں چاٹنے کا مذاق اڑائے ،
٭۔۔۔۔۔۔ ان کی ذات ، نسب ، دین یا کسی فعل کو ناقص کہے ،
٭۔۔۔۔۔۔ نقص کی تعریض کرے ،
٭۔۔۔۔۔۔ انہیں عیب لگاتے ہوئے کسی چیز سے تشبیہ دے ،
٭۔۔۔۔۔۔ ان کی تصغیر کرے یعنی انہیں چھوٹاسمجھے یا( زبان سے )کہے ،
٭۔۔۔۔۔۔ ان کی قدر گھٹائے ،
٭۔۔۔۔۔۔ان کے نقصان کی تمناکرے ،