Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
105 - 857
     اسے حضرت سیدناامام احمد، امام مسلم ا ور امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم نے روایت کیا اور فر مایا:'' یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔''

(15)۔۔۔۔۔۔رسولِ کائنات، فخرِموجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے :''اے ابن عوف! اپنے گھوڑے پر سوار ہوکراعلان کر دو کہ جنت صرف مؤمن ہی کے لئے حلال ہے۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الخراج، باب فی تعشیر اھل الذمۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۰۵۰،ص۱۴۵۲)
(16)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے بلال! اُٹھو اورا علان کر دو کہ جنت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوگا اور بے شک اللہ عزوجل اس دین کی مدد فاجر شخص کے ذریعے بھی فرماتا ہے۔''
        (صحیح البخاری ، کتاب القدر، باب العمل بالخواتیم،الحدیث:۶۶۰۶،ص۵۵۲)
(17)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جنت میں مسلمان ہی داخل ہوگا۔'' ایک اور روایت میں ہے :''جنت میں مسلمان جان ہی داخل ہوگی اور بے شک اللہ عزوجل اس دین کی مدد فاجر شخص کے ذریعے بھی فرما دیتا ہے۔''
(صحیح البخاری،کتاب الجھاد، باب ان اللہ لیؤیدالدین ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۰۶۲،ص۲۴۶)
(18)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو۔''
(صحیح البخاری،کتاب الجھاد، باب لایعذب بعذاب اللہ ، الحدیث:۳۰۱۷،ص۲۴۲)
(19)۔۔۔۔۔۔ نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جو اپنے دین سے پھر جائے یعنی مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الحدود،باب حکم فیمن ارتد ، الحدیث:۴۳۵۱،ص۱۵۴۰، ''من ارتد'' بدلہ''من بدّل'')
(20)۔۔۔۔۔۔ حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''(اللہ عزوجل کی بارگاہ میں) سرِ تسلیم خم کر دو اگرچہ تم اس کو ناپسندہی کرو۔''
 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند انس بن مالک، الحدیث:۱۲۰۶۱،ج۴،ص ۲۱۸)
(21)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''میں تمہیں تین باتوں کاحکم دیتا ہوں اورتین باتوں سے منع کرتا ہوں: اللہ عزوجل کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اللہ عزوجل کی رسی کو مضبوطی سے تھام لوا ور جدا جدا مت رہو اور اللہ عزوجل نے جسے تمہارے معاملے کاوالی بنا دیا ہو اس کی اطاعت کرو۔اور میں تمہیں تین باتو ں سے منع کرتاہوں ،فضول گفتگو سے، مال ضائع کرنے سے اور کثرت سے سوال کرنے سے۔''
(کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام،قسم الاقوال فصل الخامس،الحدیث:۴۴۵،ج۱،ص۶۵،بدون'' وتسمعوا'')
(22)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو شخص اسلام سے پھر جائے تو
Flag Counter