Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
104 - 857
(10)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دیناسب سے بڑے کبیرہ گناہ ہیں۔''
 (صحیح البخاری،کتاب الدیات ، باب قول اللہ تعالیٰ (من احیاھا)،الحدیث:۶۸۷۱،ص۵۷۳)
(11)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنااور جھوٹی قسم اٹھاناسب سے بڑے گناہ ہیں اورقسم اٹھانے والا جب مجبورًا اللہ عزوجل کی قسم اٹھائے پھر اس میں مکھی کے پَرکے برابر بھی مداخلت کرے تو اس کے دل میں قیامت تک کے لئے ایک نکتہ لگا دیا جاتا ہے۔''
(جامع الترمذی،ابواب تفسیر القرآن ، باب (ومن سورۃ النساء)الحدیث:۳۰۲۰،ص۱۹۵۶)
(12)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کا شریک ٹھہرانا اور جھوٹی قسم اٹھانا بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔''
   (المعجم الاوسط،الحدیث:۳۲۳۷،ج۲،ص۲۶۵)
(13)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سن لو! اللہ عزوجل کے اولیاء وہ لوگ ہیں جو ان پانچ نمازوں کو قائم کرتے ہیں جنہیں اُس نے اپنے بندوں پر فرض فرمایا ہے اور رمضان کے روزے یہ سوچ کر خالص رضائے الٰہی عزوجل کے لئے رکھتے ہیں کہ ان پر روزوں کا لازم ہو نا حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے مال کی زکوٰۃ خوشدلی سے ادا کرتے ہیں اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن کے ارتکاب سے اللہ عزوجل نے منع فرمایاہے۔'' عرض کی گئی : ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کبیرہ گناہ کتنے ہیں؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''یہ نوہیں، ان میں سے بڑے گناہ اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، کسی مؤمن کو ناحق قتل کرنا، میدانِ جہاد سے فرار ہونا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا اور اپنے قبلہ یعنی بیت الحرام کی آباد اور بنجر زمین کو حلال سمجھنا ہیں، جب کوئی ایسا بندہ مرتاہے جس نے یہ کبیرہ گناہ نہ کئے ہوں اور نماز قائم کی ہوا ور زکوٰۃ ادا کی ہو تو وہ جنت کے درمیان (حضرت سیدنا )محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ایسی جگہ رفیق ہو گا جس کے دروازوں کے پَٹ سونے کے ہوں گے۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۱،ج۱۷،ص۴۸، بدون ''یری أنہ علیہ حق'' )
(14)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے ابنِ خطاب! جاؤ۔'' اور ایک روایت میں ہے :''اے عمر! اٹھو اور جاکر لوگو ں میں اس بات کا اعلان کردو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔''
(جامع الترمذی ، ابواب السیر،باب ماجاء فی الغلول،الحدیث:۱۵۷۴،ص۱۸۱۴،بدون''فی الناس'')
Flag Counter