Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
106 - 857
اسے اسلام کی طرف بلا ؤ، اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کر لو اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کی گردن مار دو اور جو عورت اسلام سے پھر جائے اسے اسلام کی دعوت دو اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول کرلو اور اگر توبہ نہ کرے تو اسے قید کر دو۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۹۳،ج۲۰،ص۵۳)
    اس حدیثِ مبارکہ کاظاہری مفہوم اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ مرتدہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا جبکہ ہمارے نزدیک مندرجہ ذیل صحیح حدیث کے عام حکم کی وجہ سے مندرجہ بالا حدیث کامفہوم صحیح ترین مذہب کے خلاف ہے۔ 

(23)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کردو۔''
           (صحیح البخاری،کتاب الجھاد، باب لاتعذب بعذاب اللہ ،الحدیث:۳۰۱۷،ص۲۴۲)
(24)۔۔۔۔۔۔ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے اپنا دین بدل لیا یا جو اپنے دین سے پھرگیا اسے قتل کردو اور اللہ عزوجل کے بندوں کو اللہ عزوجل جیسا عذاب نہ دو۔'' (یعنی آگ میں نہ جلاؤ۔)
(السنن الکبری للبیہقی،کتاب المرتد،باب قتل من ارتدعن الاسلام۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۶۸۵۸،ج۸،ص۳۵۱،بدون''عباداللہ'')
(25)۔۔۔۔۔۔ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو اور جو بندہ مسلمان ہونے کے بعد کفر اختیار کرلے اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا ۔''(یعنی جب تک وہ کفر پر قائم رہتاہے اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا۔)
   (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۱۳،ج۱۹،ص۴۱۹)
(26)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنے دین سے پھرجائے اسے قتل کر دو اور کسی کو اللہ عزوجل جیسا عذاب نہ دو (یعنی کسی کو آگ میں نہ جلاؤ)۔''
(صحیح ابن حبان،باب الرِّدَّۃ،الحدیث:۴۴۵۹،ج۶،ص۳۲۳)
(27)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنا دین تبدیل کرلے اس کی گردن مار دو۔''
    (کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام،قسم الاقوال ،باب الارتداد،الحدیث:۳۹۰،ج۱،ص۶۱)
(28)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے اپنے مسلمانوں والے دین کی مخالفت کی اسے قتل کر دو اور جب وہ اس بات کی گواہی دینے لگے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی گواہی کہ محمد( صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )اللہ عزوجل کے رسول ہیں تو اسے قتل کرنے کی کوئی راہ نہیں مگر جبکہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جس کی وجہ سے اس پر حد قائم کی جائے۔''
      (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۱۶۱۷،ج۱۱،ص۱۹۳)
Flag Counter