جواب:یہ غلط خیال ہے کہ یہ چیزیں ہماری اپنی ہیں نہیں ہر چیز رب تعالیٰ کی ہے ہم کو چندروزہ استعمال کیلئے دی گئی ہے پھر چیز مالک کی ہی ہوگی، کسی نے کسی سے چرخہ مانگا تو جو سوت کات لیا وہ اپنا اور پھر چرخہ چرخے والے کا، اعمال سوت ہیں اور یہ جسم چرخہ، کارخانے سے کسی کو ایک مشین ملی مگر وہ آدمی اس مشین کے کل پُرزوں کو چلانے سے بے خبر ہے تو مشین کے ساتھ ایک کتاب بھی ملتی ہے جس میں ہر پُرزے کے استعمال کا طریقہ لکھا ہوتا ہے اور کمپنی کی طرف سے کچھ آدمی بھی مشین سکھانے والے مقرر ہوتے ہیں کہ بے علم لوگ اس کتاب کودیکھیں اور اس استاد سے مشین چلانا سیکھیں۔اگر یونہی کوئی غلط سلط مشین چلانا شروع کردے تو بہت جلد مشین توڑڈالے گااور ممکن ہے کہ مشین سے خود بھی چوٹ کھا جائے اسی طرح ہمارا جسم مشین ہے ہاتھ پاؤں وغیرہ اس کے پرزے ہیں یہ مشین ہم کو قدرت کے کارخانے سے ملی ہے اس کا استعمال سکھانے کیلئے کارخانہ کے مالک نے ایک کتاب اتاری (1)جس کا نام ہے ’’قرآن مجید‘‘ اور اس مشین کا کام سکھانے کیلئے ایک استادوں کا اُستاد دنیا بھر کا معلّم بھیجا جس کا نام پاک ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،اس استاذُ الْکُل نے ہم کو مشین چلا کر دکھادی اور قرآن مجید نے پکار دیا کہ