آج دوسری قومیں سود کی وجہ سے ترقی کررہی ہيں۔اگر ہم سود کا لین دین کریں تو ہم بھی ترقی کرسکتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا آج دنیا میں جو بھی مصیبت ہے وہ سود ہی کی وجہ سے ہے، بڑے بڑے بیوپاریوں کا ایک دم جو دیوالیہ ہوجاتا ہے وہ یا تو سٹے(جوئے)کی وجہ سے یا ہنڈی کے لین دین (سودی کاروبار)سے، اگر آدمی اپنی پونجی کے مطابق کام کرے اور محنت، مشقت اور دیانت داری سے تجارت کرے تو اس کی تجارت ٹھوس اور ان شا ء اللہ عزوجل! لازوال ہوگی اور زکوٰۃ نکالنے سے اپنا مال محفوظ ہوجاتا ہے جیسے گورنمنٹ کا حق ادا کرنے سے مال محفوظ ہوتا ہے زکوٰتی مال برباد نہیں ہوتابلکہ بڑھتا ہے انگور اور بیر کے درخت کی شاخيں کاٹنے سے زیادہ پھل آتا ہے اسی طرح زکوٰۃ دینے سے مال زیادہ ہوتا قدرت نے ہر چیز سے زکوٰۃ لی ہے آپ کے جسم پر بیماریاں آتی ہیں یہ تندرستی کی زکوٰۃ ہے ناخن اور بال کٹوائے جاتے ہیں یہ عضو کی زکوٰۃ، تو چاہے کہ مال کی بھی زکوٰۃ ہو مسلمانوں کے زوال کی وجہ سے ان کی بیکاری، تجارت سے نفرت اور آوارگی ہے اور یہ تو تجربہ ہے کہ مسلمان کے لئے سود پھیلتا نہیں۔آخر کار تباہی لاتا ہے دوسری قوم سود سے بڑھ سکتی ہے مگر مسلمان اِن شا ء اللہ عزوجل! سود لینے سے نہ بڑھے گا۔بلکہ زکوٰۃ دینے سے۔ پائخانہ کا کیڑا پائخانہ (گو)کھا کر زندگی گزارتا ہے مگر بلبل کی غذا پھول ہے۔ مسلمانو! تم بلبل ہو پھول یعنی حلال کمائی حاصل کرکے کھاؤ۔حرام پر نہ للچاؤ۔حلال میں برکت ہے حرام میں بے برکتی، دیکھو ایک بکری سال میں ایک یا دو بچے ہی دیتی ہے اور ہزار ہا بکریاں ہر روز ذبح ہوجاتی ہیں اور کتیا سال میں چھ سات بچے دیتی ہے اور کوئی کتا ذبح نہیں ہوتا مگر پھر بھی بکریوں کے جھنڈ کے جھنڈ اور ریوڑدیکھنے میں آتے ہیں اور کتوں کا ریوڑ