فرمایا کہ داڑھی رکھ لے یہ اس کا آخری اور تیر بہدف نسخہ ہے ۔پھر فرمانے لگے کہ قدرت نے انسان کے بعض عضوؤں کا بعض سے رشتہ رکھا ہے اوپر کے دانت اور داڑھوں کا آنکھوں سے تعلّق ہے اگر کوئی شخص اوپر کی داڑھیں نکلوادے تو اسکی آنکھیں خراب ہوجاتی ہیں پاؤں کے تلوؤں کا بھی آنکھو ں سے تعلق ہے کہ اگر آنکھوں میں گرمی ہو تو تلوؤں کی مالش کی جاتی ہے اگر نیندنہ آوے تو پاؤں کے تلوؤں میں گھی اور نمک کی مالش نیند لاتی ہے اسی طرح داڑھی کا تعلق خاص مرد کی قوتوں اور منی سے ہے اسی وجہ سے عورت کے داڑھی نہیں ہوتی اور نابالغ بچہ جسمیں منی کا مادہ نہيں ہوتا اور ہجڑا (نامردیعنی زنانہ)کے داڑھی نہیں ہوتی بلکہ اگر کسی مرد کے داڑھی ہو اور اسکے فوطے نکال دیئے جائیں تو داڑھی خوبخود جھڑ جائیگی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام لوگوں میں مشہور ہے کہ مولویوں کے اولاد بہت ہوتی ہے اور مولوی کی بیوی آوارہ نہیں ہوتی اسکی وجہ داڑھی ہی ہے اور ناف کے نیچےکے بال قوتِ مرد ی کیلئے نقصان دہ ہیں اسی لئے شریعت نے انکے صاف کرنیکا حکم دیا ہے اگر ہوسکے تو آٹھویں روز استرے سے ورنہ پندرہویں یا بیسویں دن ضرور لے۔ غرضیکہ سنت کے ہر کام میں حکمتیں ہیں ہم نے ایک کتاب لکھی ہے ''انوار القرآن''جس میں نمازکی رکعتیں، وضو،غسل اور تمام اسلامی کاموں کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ حتٰی کہ یہ بھی اس میں بتایا ہے کہ جو سزا ئیں اسلام نے مقرر فرمائی ہیں مثلاً چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، زنا کی سزا رجم کرنا اس ميں کیا حکمتیں ہیں نیز ہم نے اپنی تفسیرِ نعیمی میں اسلامی احکام کے فوائد اچھی طرح بیان کردیئے اس کا مطالعہ کرو۔مونچھ کے بال بھی قوتِ مردی کیلئے فائدہ مند ہیں مگر ان کی نوکوں میں زہریلا اثر ہے اس لئے ان کو کاٹ تو دومگر بالکل نہ مونڈو۔