Brailvi Books

اسلامی زندگی
92 - 158
کٹواتے ہیں اور پرانے زمانے کے لوگ وہ پانی نہیں پیتے تھے جس میں ناخن ڈوب جائیں مگر اسلام نے اسکا یہ انتظام فرمایا کہ ناخن کٹوانیکا حکم دیا اور چھری کانٹے کی مصیبت سے بچایا اسی طرح مونچھوں کے بالوں میں زہریلا مادہ موجود ہے اگر مونچھیں بڑی بڑی ہوں اور پانی پیتے وقت پانی میں ڈوب جائیں تو پانی صحت کے لئے نقصان دہ ہوگا اسی لئے اب موجودہ فیشن کے لوگ مونچھ منڈوانے لگے۔اس کا اسلام نے یہ انتظام فرمایا کہ مونچھیں کاٹنے کا حکم د ے دیا۔کیونکہ مونچھیں منڈانے سے نامردی پیداہوتی ہے۔
    داڑھی کے بھی بہت فائدے ہیں سب سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ داڑھی مردکے چہرے کی زینت ہے اور منہ کا نور جیسے عورت کیلئے سر کے بال یا انسان کیلئے آنکھوں کے پلک اور بھویں(بروٹے)زینت ہیں۔ اسی طرح مرد کیلئے داڑھی۔اگر عورت اپنے سر کے بال منڈادے تو بری معلوم ہوگی یا کوئی آدمی اپنی بھویں (بروٹے)اور پلکیں صاف کرادے وہ بُرا معلوم ہوگا۔اسیطرح مرد داڑھی منڈانے سے بُرا معلوم ہوتا ہے۔
    دوسرا فائدہ :یہ ہے کہ داڑھی مرد کو بہت سے گناہوں سے روکتی ہے کیونکہ داڑھی سے مرد پر بزرگی آجاتی ہے اسکو بُرے کام کرتے ہوئے یہ غیر ت ہوتی ہے کہ اگر کوئی دیکھ لے گا تو کہے گا کہ ایسی داڑھی اور تیرے ایسے کام۔داڑھی کی بھی تجھ کو لاج نہ آئی اس خیال سے وہ بہت سی چھچھوری باتیں اور کھلم کھلا برے کام سے بچ جاتا ہے یہ آزمائش ہے کہ نماز اور داڑھی بفضلہ تعالیٰ برائیوں سے روکتی ہے تیسرا یہ کہ داڑھی کے بالوں سے قوت مردی بڑھتی ہے۔ ایک حکیم صاحب کے پاس ایک نامرد آیا جس نے شکایت کی کہ میں نے اپنی کمزوری کا بہت علاج کیا کچھ فائدہ نہ ہوا انہوں نے
Flag Counter