Brailvi Books

اسلامی زندگی
89 - 158
جائے۔تو اے مسلمانو!تم اللہ عزوجل! کے رنگ میں رنگ ہوئے ہو۔
صِبْغَۃَ اللہِ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَۃً ۫
ترجمہ کنزالایمان:ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی)لی اوراللہ سے بہترکس کی رینی(رنگائی)؟(پ1،البقرہ138)
گر تم کفار کو دیکھ کر اپنے رنگ کو کھو بیٹھے تو جان لو کہ تمہارا رنگ کچّا تھا۔اگر پکا رنگ ہوتا تو اوروں کو رنگ آتے۔
مسلمانوں کے عذر:
    ہم مسلمانوں کے وہ عذر بھی پیش کردیں جو کہ وہ بیان کرتے ہیں اور جس سے اپنی مجبور یوں کا اظہار کرتے ہیں۔ (۱)خدا دِل کو دیکھتا ہے۔شکل کو نہیں دیکھتا، دل صاف چاہے حدیثِ میں ہے
''اِنَّ اللہَ لَاَیَنْظُرُاِلٰی صُوَرِکُمْ بَلْ یَنْظُرُاِلیٰ قُلُوْبِکُمْ''
(یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے نہیں بلکہ تمہارے دل دیکھتا ہے۔)
یہ عذر پڑھے لکھے مسلمان کرتے ہیں۔
(صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ۔۔۔۔۔۔الخ،باب تحریم ظلم المسلم۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۵۶۴،ص۱۳۸۷)
جواب:اچھاصاحب اگر ظاہر کا کوئی اعتبار نہیں دل کااعتبار ہے تو  آپ میرے گھرکھانا کھاؤ یا شربت پیؤ اور میں نہایت عمدہ بادام کا شربت یا عمدہ بریانی کھلاؤں پلاؤں مگر گلاس یا رکابی میں اوپر کی طرف خوب اچھی گندگی پلیدی لگادوں۔آپ اس برتن میں کھالو گے؟ہر گز نہیں کیوں جناب !برتن کا کیا اعتبار ؟ اس کے اندر کی چیز تو اچھی ہے جب تم بُرے برتن میں اچھی غذا نہیں کھاتے پیتے رب تعالیٰ تمہاری بُری صورتوں کیساتھ اچھے اعمال کیونکر قبول فرماویگا۔اگر قرآن شریف پڑھو تو لطف جب ہے کہ منہ
Flag Counter